ا ئے_- _۔ ےل
7 ت جا اش
اکر و
تاج ال راجہ کے اوصاف و الات اوران رے
ما نو اد صدراش رلجہ کے لتخانقات سے والستۃ یاد مل
پاش
موڑا نا فیضان لصف تقادری
ربیل النوراٹی ٹیوٹ پیشن ام لہ
نا مکماب:
تھا تقو ق بن مصن فتفو طط ہیں
0-۰/2
صوزا ن فیضان ا مصضلفی تقاوری
سیک وڈ ا میک : عاذامیل امدامچری
لع راضخات:
شا
سن اشاعحت:
ا
ائیعل:
64
2018
مد ی بک ڈ ھی
۲3۱٢3۷۱۲۱۷٢۵٣٥۷٣
کے
ریبک ڈیو کرک الدین پر کھڑی
00 سر یا
کت ختقیات خڈیائل جا مسر دٹی
ایز یک ڈو نز ورس العلو مکھڑی
کہا ل بک ڈو نز پر رس العلو مکھڑی
سرت مضامین
ا در ےۓےۓےنئسےے ٤٢۶_م.
سد سد
3ت ےا کتا شر لیک
30 ص۹ ا
کے لہ 7" ج
جج د+سگیچد : سویچھ ۰٢:
8ڑ . سط یھ ہب
0۸ ہہب ومسلک را حتقامت 16
لوا میں ریا
او اد٤ رضااورغا لو اد٤ صررالش ریہ
١١ صدرالشربب اع ححضر تک بارکا ویش
الاساام فی نشم ہنداورصررالشریجہ
مفسرپئظمم ہنا ورصررالشریجہ
جا الش ریب اورصدرالش ریچ
منقیت درشان صررالشربہازتا بن الش رجہ
٦ تا الشرلبراورمحر ثکمیر
یرتا ج اش یہک نو ازشات
ضر تکی موجودگی میں ایک طا لب علا رر
گر
ا تما اھ من پراھ بی ا کالہ کے اعت رات کا جواب
۲ نی یمیا رمیس شرکت اورتارج خلافنت
۳۴ ۰ تجاح الش رب کی رعلت ای کعدکاخاض
۵ سوروا نر ںح کین فقیر
عاشی۔گا ریا عاشیہ بنا رکی سے نو نے
قوراخویا یر مساج بنانے پپاع یکا سبب 47
مو رعلیرالسلا مک نماز کے متقاما تک ابھیت
.- تمد برعاش ےکا ایک ےون
بجٹ وین :اصھال کاو کی اسنادی حشی تک تین 6
حفرتابرائیم علیرالسلام کے وال رآ ز یں “تین 7
۳
"٥
نا
ف
ف کے
چ-۔
34
4
0
6
3
ے
7
جح
48 ۲
49 ۲
م۲
ا٣ 53
۳
-
0
-
-
جےہ
ب
ےھ ۰
چ
مھ
عم الین ال رجیم
ز ینگ راب مرش دگ راب یآ تا نے_لقت حامی سنت و ماق برع تتضورت رج اش لج عاا تی
ان رضا خماں از ہری علی۔ الرمۃ والرضوان ےم خلقی ادداشتو ل کا ایک جمھوصہ ہے اس کے
مات ماف اسسلوب اور رک بر کیہ یئ مضائجن ہیں ۔حخرت کے وصال کے بحد سے اب
تک ایک اہ کے دوران شکت ول اوری تل کے بااسات تی رمرتب طور بر ہق طان پر
مل یع نر تی رعلت تف اشن ول براہھروفرف ت کا جوداغ لگا ہے مرورایام ا سے جلرنہ
ما ےگا ءاورقوم ان جس بقا نکد اور ہب ر خروم ہوگئی ہے اسے پرسوں چھلا نہ سس ےکی ہتراروں
آلاع روز 7147ء لوت کی مو جودکی قو مکوخوداخما دی 71 و“
7ے و کر میں اہ و گاج 6 شاوہ مہ
طوفالن با خ کا منقا بل ہکیاجا سک ماء اور بڑے بڑ ے مع رکےس رکمرن ےکا ولولہ بیرارر تا ھاء اب
اس مر تاہاں کے رون ہوجانے کے بحعدرافی بر دحند چاگئی سے ء رب سے ال تار پگ یک عمر
دراز شک ر ےو جلر نماٹو اد٤ رضا کےاف نی پڑسی نے سورجع کےآ ار ا ہرہموں گے_
جار اش ری ہکی رن زن کی نے گیل ای ک عق دیا ےکہ بندہہ رہرلہد بین کےکا موں میس کا
روسکناے معز کلم اوراختتقلال ہو ای سد چوٹی سرک رکا سے تارج الش کی رعلت
ان کےم تقد بین کے لے ای ککھلا ام ےکا نیکمن زندہ ہے جس میں زندگ کیم ارنیں باتی
رکنا اھ س بکیمشت رکذ مدداری ے۔
زم نظ کتناب میں ماج الش رجہ کے عحالات دومالات نے الو ترک یم نے شمائل سے ہیں
6
ورن جن سکی حیات شرق وحرب کے لے نیرتاہا ںکی طر آشکار ہ وہ چن رصصفیات اس کا کیا
تار فکراسکے ہیں ۔ اس جو کا ہم ت بین <ص نما نو ادة ای حطرت اور ناو اد صدالش رہ کے
رپا و تھالقات اور من میں جا خ الش بی کےگردار مشمفمل ے جوجھوگی طور بی ہہ ری بادداش٦ت
پنیا ہے ہج کوٹ کرت ہو ۹م نے اپینے عا نظ کے سا تج ھانصا فک ن ےک یو کی سےء
تاپ مکوکی ہعاریی اصلا مکنا جا نے یہی مرکم ار یا تگا۔
تمتاح الش رب کی رعلت ایک ع ہکا خاش اداد یہ سے ج ماہنامہ ام ش رلیعت کے لیے
کا گی تھا اا ںلوجھی اس میں شمام لکردیا ے۔
اح ال کی نی خدمات کے پگ نھونے بھی ز یبد داستتالی کے طور پر ددرج سے ہیں ء
ورزگھی شبات مرا لعهم نےمفص لکھاہوگا ام سورٗ ام نشر ںیقی رجوحفرت نےسی
۴ رر ری سکیھی ام سکوام نے عرتن بک کے اس میں شا لکردیا سے یڑ ام ری ا ار
لوں عا پک یمر نے حسام اھر ین ش ریف بر جوتقیری متا کید تھا تضورتا ج اش کیہ نے ا ںکارد
نھوا اہ جو اری مر ا ار وش ویر ای کل ا کیا کہا تھاء
انل کا نکر ھی ہم ن کرد یاےء بدوٹوں چرس اض ای جو ےکا حصہمہیں۔
یں تیر ےےتصودتا جع الش ری بارگا دیس اپٹی خلا مان عاضرکی ہے :اورشس
ماک ہا ذرگاں
فقی فیا نا مصطفی جرری
ا وی رر تل
ذو ا ۱۲۳۵ و مطا ٣۱ِ راگست ۲۰۱۸ء
احوالواوصاف
اعل یرت ے ماج الش اتک :
چودہو یں صدکی کے می ددائلی ضرت امام احدرضا فس سرد الھز 0
گیرخد ما تکا “ران کے واللد بن رگوارضرت علا نیقی عی خمال رجمیۃ الد علیہ کےسرجامتا سے جو
اگۓ وفنت ہے سز اتعقیں اور رم زشناس شش اعت وتقیقت تے نی نکی ج ہرخناس جا ہوں نے
اپنے ہونہارے میس ووسما رےعنا صر دہ لیے جو بل کے اہک محدداوربترکی کے مےضروری
تء پیم دکمت کے الک بقرکی باپ نے اپن فرزندک یت یی عمرس دی تر یت ش رو کردا :
لیصفت با پکی برداخت نے ب حکوعا لم ےعق نچ ضتی پچ روف تکامبرد بنادیا۔ امام امم رضا
نے تروس لکی عم میں علو معقلیہ نتقلیہ سے فارغ ہوک رمندراف ا کوز بہعتپششی ء اور اس دارالا ا
سے وین وسنی کی اڑ نشی لی خرمت امام دی سے جن سکی مال ہندروستا نکی تار یش
د میں ما علا میٹ شا ادا شا من صا اومان کا ہے ددرت ور
تن رضا میم الرجمہ۔امام اترضا کے دونوں پھاخوں نے والدگمرائی کے اشارے پر پڑے
بائ یکی خاگی ذمہردار یو ںکواس طط رح نال اک۔اماممکود بی مھ یکا موں کے ل مل فا رخ
پا لکردہا تھا۔ اید تھالی نے ای رت فنسس سر ہکو دو شاب رارے عطا ہے ء ما مد رضا اور مصطف
رضاءامام اح رضا کان جبات نے بڑےصاججمز اد ےکو چۃ الاسلام او رکچھوے صاجم زار ےکو
٠ 27 بن بنادیا۔ ان دوفو لںگرادوں نے مجدد پاپ کے شم من نکو1 کے بڑھایا اوراچۓ
لم کل سے ارام ائل سن تکی جا سیف یکاجن اداکردیا۔ اع حضرت کے بیددوفٰوں شاجرادے اع
حضرت کےعلم کل کے جج وارت ہو ے ء اوران دونو ںکیخفصیت اورک ردار یش امام اج رضا
نس سرہ کےعکوس وظاا ل نظ رآ تے تے۔
صخرت پت الاسلام کے دو صامجزادے ہہوۓ بڑے صامجمزاد ےکا نام ابرائیم رضا
(جاپی میاں ) تھااو رھ صاجز ادےجمادرضا(خا بی میاں ) ۔کتے ہیں ے سے زیادہ
تا امو ں کا جاراہہوتا ہے ابرائیم رض کیشکل میں ایک خوبصصورت پت داداجان کے ولو ںکاگگڑا
9
نکران کے ذ من ولک پر اگمیا۔ دوسربی طرف مفتی عم ہندکی یئ یصو ںکی مارک دادا کے
چننتا نکیی بی نک رکھلنگی بک می امام اتد رضا کی شنڈراد کی شاو یک تقر ی بی جنھا چھول
برا زیم رضا اورمغتی انل مک یش یی اھ ایتھےلباس ز یب تن سیے وھ یکی شاو یک یتق ری بکو
دو الا سے ہوۓ تھے اعلی حضرت نے بوتے اور ایل یکو بک گود یس مھا باءاورفرمایا حا مرمیال
(یچیہ الاسلام )کو با ,“صظ میاں ( مفتی بنشم ہند کو بل 2 دونوں ولیوں سے اپتی اولاد کے
نیا حکی اجازت کی اوردونو ںکورشنے فا بی جوڑ دیا۔أس وقت لوت ےکی عھ رآ ج سال اور وی
کی عم پا سا جیا ء اسر اچ تک دنو کا عق با ہوا نو یس کےتتل کم میں ھا تیں
ہوشیںء ایی رت نے فرمایا:اگمہ ال ز مین سےا سما نک ککوکی اڑے نے اس گی کے لے جملائی
جیلاٹی میاں ال حضرت کے لاڈ نے تہ مہ خانلدان می واحد تھے مج نکی جبعت ال
ححضرت نے خودمیء باق یگ کےمام اف راو نخرت ارو اس ن فو رکی میال مار ہردی علیہ ال رص سے
بی تگراباء اور جب جیلاپی میا ںکی بجعت اپنے دست اقد پر کی ای دقت ا نکوخافت گی
دے دگی۔ اع حضرت کے وصال کے وقت جیلای میا ںکی عم چودوسسا لنھی ۔۱۹ مسا لیک عمر
میں حطضرت جسلا پی میاں سام سے علوم اسسلا میک یت لکی اور وال گرا می رت مد
الاسلام نے دستارفضیلت بانیی۔جیلاپی میاں اپنے واللدکی ج ای ریگ نوں لے گن ء لربل ککی
یم کے بعدآپ کے بہنوئی مو نا نفقی لی اں صاحب جوا وقت منظراسلام چلاتے تے
اکنتان ےگ ءأس وقت جیلانی میاں ہر بٹ یآ ے او رآکرداراللوم منظ رسلا مکوا ےت لیاء
ورای وفت یل اسے منھالا دیاج بک مالی اختبار سے بہادار مخت پر بای میس متلا تھاء بے
دارامعلوم جو رج تقائم سےحضرت جیلا پی میا ںکی وج سے ائم ہے مک ہیکذ مانے مم سپ نے
انگ کے اورتک ٹ کم کے اس کے اخراجات پورے سیے۔
جیلا ی میا ں کا سے کر ےت رر نہ تھے ءآپ کے داماوحضرت وت میاں
با کرت ہی ں کس ز رانے بیس الیشن کے دوران ُھوں ن اگ نجس کےخلاف اشٹنبارڑیال
10
دبا نپ روکاز ماشہ تھاء بینت نا یکا پگ ری لیڈراس وقت امیدروارتھا:نپردن ےکہا: جلریی جا وانھوں نے
اشتہار کال دیڑے مت پار جا گے وہب بٹ یآ یا لوکوں ن ےآ پکو نا اکم بن تآپ سے من حا بتا
ہے فرمایا:ا سے بیہاں درگاہ بر نہلا َء میس پچچلنا ہوںء جب ملانفات ہوٹی و اس لن ےکہا: آپ نے
ہمارےخلاف اشما الا ے:ف مایا خمہارےخلافک میں کان ریس کےغلاف الا ےء لے فا
ہویۓ سب کاگرییس ن ےکراتۓ ہیں :دش میرک کا مھا مل اگ رنئل لت ےکرایا۔ یقت لن ےکہا: شس
آپ ےوعد ہکرت ہوں وآ پیل گے ددمانا جا ےگا فرماا تہارک با تکا یش نیل سے ہرد
اکر بات جن سےکمرے اور جو میں ٦ اے پوراکرنے کم 0 لس ہیں اء وولو
یا ءا مان کےا کھراے اور بات کے ہیں ہہ جیاا کی مو ناپ کے
شک راد ے بی ا تآپ تن ےکن لا ہفرماا: ا لکا پاپ ری لک راس کی نرک رات ےگا ؟پا خر
یس ہوااوروہ اشن میس وہاں سے پا رگاس دورمیش بر بی ش رش حضرت جیلا فی میاں کے
رکب ددبد بنا با لتھا-ا نک اتقا ل ۱۹۹۲ء ٹل ہوا_
جیلای میاں رم ال علیہ کے پاب صاتجزادے ہو ئۓ بن میں حضرت مولا نار پان رضا
جاں ای ماق ہے الک اکا مر و ا ا مم در ہو گئئ ءانع کے
بد رتضمورتا ج الشریبہغتی اخ رضا نا یت سرےصا جم زادرے تء بر موا ناقمررضاخماں اور سب
سے کوٹ منالی میاں ءگو با ان پا میں شاہترادگان میں تضورہ رج اش ربیخ رالاموراوسطہا کی
تی رب نکرمنظرعام برآۓ۔
جا ج ابچ رش العا ی:
7ا می ںآ پک ولادت ہہوگی ءاساحنل رضا نام ہواء اور برنام واللدابرائیم رض ای بت
سے پاپ بیٹوں میں انھی کو صل ہواءگو یا ھی اشار وق کہ تمقیل میں بے شارطوفان بلا خر
آئیں گےنجن کے سام ای مردمیدرا نکوسٹن یی رہہوکر اسننظامت اورحبر ورضا کا مظاہر ؟کرنا
ہوگا۔ ”مم“ نام برتقیقہ ہوااوز انت رضا نام سےشبرت ہوئی۔
ارسال چارہ دن ارون ہو نے تضورمفتی نشم جنر نے سم او رخواٹ یکراکیء والدہماجرہ
11
نے رن پا کن گراماء م"""ئ جرح ےتا ےک دای ور
مہاں انگمر نکی ءہندی زہاوں نیز رباضیات اور دوس رےعلوم چد یرہ نات کے پچ روا رالعلوم
منظراسلام میس درس ظا بی کےساتحوساتق دای کع بی استاذ تن عمبد ال اب مکی سےع ری فان د
ادب حاص٥ لکیاءچی مھرکی نے آ پکی ذبات سے اث ہوک رفس رانهم س ےگمز ای لک یکم
صاتجزادےگوجائم ازہ رگ دیں۔ چنامجہ تم ڈاءمٹس جا ازہ ر کےکلریۃ اصمول اللد بن ش
و قح ہوے۔وہاں 27۸2 کے منعروشنون ی اہ 0 اودر([١۹اء یس متتاز لو زین سے
کا میالی حاص لک نے کے می شرف ملق ہدئے ای دوران والد کے انقا لیک صرمہ
ہنا ڑاء بر بی ری فک کر وارالعلوم منظراسلا مکی من رر لی ںکوز بین ت ہنی منکہیں 7
قیادت وسیاد تک ماتی کا آغاز ہواء شس میں نانابان حضورمفتی انلم ہندعلیہ ال رج کی نیش
رسا ں یتو کیا سب سے ڑ ارول ر ہا۔ والدگرا ھی نے ابی حیات ٹیب یآ پکا رشدا ایی
حخرت صن میا ںکی بی اورجخضر تسین میا ںکی صاجزادکی سے ٹف رمادباتھا بدا وہر
۵ء می متا کا رم ادا یکفی ؛ جن سےآ پکا پا صاجمزادیاں اور ایک صاجزادے
حضرتعلا مد رضاخحاںل مد لہ العا لی ہونۓ-_
واللہ کے اتال کے بحدرالی میاں نے دارامعلوم منظراسلا مکی ذمہردار ال سال اور
آ پکوصدرا لیر ری نکی حقیت سے مقر رکیاءمنظراسلا مکی نر لس برسوں مارگ رجی مین بعد
جب یی ودوئی اسفارش روح ہو گئ او رمع روفیات بہت با اور باضائا تر ریش شکل
ہوئی و من راسلام سے سرک دو ہو گئء اورصب فرصت قیا مگگاہ پہ درس ق رآ ن وحدبیث
کیا سلسملییشرو ںحکیاء مم س کا فان ہوا منظراسسلام مظظ ہر اسلام اور جا مع رض ول اداروں کے
طل یکو اسنتفاد ہکا مو ملا_
اج الش ىہ نے فق کی فو یکا کیا چودو سا لکی عمرمیس بی شرو کرد با تھا ءاوراس سلسلہ
یس حضورہطتی نشم ہداورحضرت تی سید ال ہن موک رىی سے استفاد کیا اس کے بح متضور
مفتی نشم ہنر نے دارالا رآ آپ کے جوا نےکردپا تضورمفتی اعم ہنلد کے وصال کے بعد جب
12
فقو یی نو یکا ملس کاٹ مہ رر آپ نے۸ ڈاءییس با اعد ہم رکز می دارالا فا قائ مکیا-۔
آپ نے پلاپٌ 3۸ اء میس دوسرا ۸9ڈاء یس او رتس ار ن۸ ڈاء می سکیاہنس میں
سعودرعکومت نے پکوجیل میں رکھا جس کے بعد ٹین الاتوائی ہب ایاج ہواجس کے مت
ر ما نل می ںآ کیء بللہاس کے بح رسحودی ععلومت نے ساوبقہ نا رواسلو ککی ای کے لیے
آ پکوایک ما ہکا ۹وی و یز ادیاء اکآ پگ س۶7
ای یرتا ےن اتی اور یا ا یرت تھا ےآ بک
اج شیک اور زع الما کا خطاب دیاہءاورشر یکس لف انا گیا شایف کے اک
اجلاس ٹیس علا ۓکرا کی موجودگی می ںآ پک مقاضی القعنا وی ان“ کےطور برق لکیاگیا۔
ایس سا لی عمرمیںتضورمفتی انم ہنر نے ای خی یپتفل می ںآ پکوقام ملاس لکی
اجازت وخلافت سے و ازاء ایک سال عریل ای مار ہر د+ظر کےموح ررتضورانسن المقادما علیہ
ارحص نے سلسلہقادر یہب رکا یٹور کی اجازت وخلافت ےد ازاءیوں بی سیرالمتراء پر با نعملت
اورر بای میا کم ال رجہ ن بھی انی خلافت داجازت ےو ازا۔
وعہت اوررعلت :
اک وٹ ام ی سآ پکی وعییت سن ےکوی جس می ف مار سے ہی ںک یس کش سفرمیس ربتا
ہس اک لا ا وا ا کے سا کم ںی ول
ےخ ریب دسا اہک کا او یں اج ہشیت ار کے
وی ادرف سے ہی تصور ےجس میں شر یع کی ہا آ ور یک نشی نکی جارتی ہے۔
ا جوا لی ۲۰۱۸ء 0 ہ۷۷ھھ٭"ھ٥تت مم ںآ خراب عروب ہو کا وقت ہوا موزن
نے مخر بکی اذان دگیء ینس کے بحدیعلم واد بکا یسور پمیشہ کے لییےنمروب گیا ءاورآفاقی
الم برتار بی اوراداسی چھاگئی ۔ اور دنا می ںآ فان خر ہوئی ء اورجٹس سے کو کا و کی
رف ردانہہ گیا اک ححخرت کے جنازے میںج ریگ ہو سے
جخرت کے جنازے می اتی بڑکی تعدادیش لو کش یک ہہوٹ ےک اتی بے اہگع لوگوں نے
13
دیما یہ بہوگاء اس روز رےش بی میں اناو ںکا سیلاب ا رھآیا تھا اور ہرطرف سر ی حر
نظ رآ رے تےء لوک اتی ہبی تصداد یل ہماز جنازہ می ں شر بک ٹل کہا کا ت7
نی علیم۔
تاج اش رکجہ کے وصال کے وقت محر کیب غازیی پور میں تے, نر لے بی وا ہی ںکھڑی
لوٹ اور بی شریف جان ےکی تیاری یس لک یئ حضرت تارج الش ریہ کے چان ضر
مو نا صسحد رضا صاحب مرف لہ العا کی خواپش ہہوئ یک حد ٹک نماز جنازہ بڑھانیں مین
محر ثکیرنے انی عم دیاکیآپ پٹ امیس ہضرت مولا نا سید مال قبلہ نے ححخر تک حیات
بی نماز جناز ہکی چودہدعا میں بادکر کے حطر تکوسناد میں + او محر کی رک یبھی مرضی بجی
تی[ اہ ماگ ا “سیر رضا مال لہ نے ان خمام دعا ول کے یک ان کی راز
جنازەڑعالی۔
تا الیش ریا یک م رش کی سیت ے:
تو رفتی نم ہنرعلے الم وا ضواان نے ان دورٹیں بی حطرت تا ج الم لولوگوں
0 م77 وع تر کاعھم دے دبا قاء ممطتی انظم ہنی آپ و واج اشارہ تھاء
چنا ٹیتضورمفتی اٹم ہند کے پردوفرمانے کے بحدتاج الش ریہ علیہ ال رح سارک قوم کے قبلہ
فو جبات بن گے ء لوک ان سے مم ربیدہونا ش رو ہو ئےء ہا ںیم ککہ چندساللوں کے بد حال ىہ
تھاکہ رب شریف یل چپ رک حثیت ےآ پک خخصیت ہی متعار گیا ہشردوغ یں مریدو کی
تراوشً ری جاسکقییا یکن بیس جب مقبو لیت کا عاکم بی ہواکجٹس جیلس میں ہش رک تفر مات اورا
شع مریدہوجاتاء اور الیا عم ہوتار تارذ مربیرو ںکا شا بائمکن ہوگیاء ہنروستتا نک اکوئی خطہ
4 یاں تصورتاح اشربجہ کے مر یدنہ ہوںء لہ جب عالی اسفارروںغ ہوۓ لو محت
واراد کا سمل سار سرعد میں پوڑ دک رشرق نر ب مم کی لگمیاء اور ہرحچلہ ماج الش ریہ کے
مریدری نک جاو وط نے لگا۔آ جکل دنا ئل نمانقا حی جیا کان اور پان عخظا مک ییائیش ءان میس
بڑے پڑے پز رگ صفت م شدالن اراد تگھی میں مان جو بات تا اش رییکوان خرام سےمتتاز
14
کرکی ہے دووام کے سا تحوسا تج خلا ۓکرا مکی ان سے ارادت سے ۔علما ت ۓےکرام او رام پا ینعم
شمالددی ات کشزت سےسی مر شر ے ببیعت ہو لٹ یکقزرت سےتضسور تارج اش ریہ سے ببجمت
ہیں ۔آپ جب جائم از ہرم ینیےووہاں لوگو ںکواس وقت تبرت ہوثی جب وہاں کےطلہ اور
ربصری نج اکا یس میں نے ےق ریب معطرت کے م راد لگے۔
خرضیکہتا ج الشریی ہک یتخصبیت دو ےک عحرب وم اورزشرق وخرب ہرطرف ا نکی متبولبت
کا سرع پچنکارہاء ہرطرف لوک ا نکی ری سے تیر ہوتے رہےہ می اس یہد می لآ پکیا دہ
خحصوصیت ہے جن سک بنا ہآپ بہت سارے مار سے متاز تھے ایک اندازے کے مطابق
ے۶ لان ہرادا ںکروڑ سے تاو ہورع درادارڈ تال یکمعلوم ے_
شرافت ضجایت:
ضورتا رج الیش بب رعلیرالرجم امام اتررضا قد سر کے لال“ اک سے تے اورآ پکاعیم
تضور یت الاسساام او رتو می انلم ند کے خوان سے تیار ہوا خھاء اس لیےنحجاہت وشرافت رک
دے میں بی بسائ یی :نوف ماتے فو شراف تجلقیحیءاورمواملات می معیار سے نے نہآتے
تے,فردگی مسمائل می سپ نے ایک سے زاتدمحاضر بی سے اختا فکیااورردنجج یکیا شی
اہ تکا دامع بات سے ن بچہونا ءال وفت اس معاشرے می ںکوگ یھی اختلاف چنندمرائل می سکس
رح ذاقیا تکی سرعد میں داشل ہوکر بڑئیآساٹی ےگا یلو کی حد کت جا تا سے مین جم
نے نہ سنا ند اکتضورتا ن الشٹر یی علیہال رہ نے ات ےک ی)لی ری فکوبرے الفاظ سے یادکیا
ہو ہگنرے کے استعمال سے ہہوںء ذاتیات رر ائجچعانی ہو ۔ ایک زمانے میں ایک مرادآبادی
صریف نےگالیوں س ےج ریت مب یآپ کےخلاف شا ئ کیہ پٹ شی مکراے مان مضرت
جواب جاپلاں ہاش گی رکار بندرے۔ پا ییسعنا ص رچھی ہیں جنخھوں نے خووا قیرف ے
می تیعم با فرد کےخلاف محائدا یت مہ تیارکی اود اےحعضر تکی طر سی جہت سے “سوب
کردباءا سمکویخان حر تک ین ریبک برا چھل کے گے :ان نحضرت نے ان سب چو ںکاکوئی
نوس نلبابضرورت با یو وضاح تک/ردی ورنہاۓ ھی فان ای اھر نے رے۔
15
للہا بھی ہوا حطر کی مقبو لبت دک یرک بجر ائل ثر وت بد اصرار تر تکی میز بای کا
شرف حاص٥ لکرتے برعلا ملا جات کے سم ے؟ ت فو کا موںح ند درا جا ما ءا لیے لو رر تکی
خرافت ولیاہ تکا فادد اتا ہوۓے بہت سار ےکقیرت منرو ںکی زیارت وعطا نات یش
رکاوٹ بن چاتے بنضرتکوا ری طر نیل جانی فق بی رف رماتے اوراندر بلالیاجاتا۔
نضرت دنمادی معا لات یس جس ور ربھی شش راف تک ا کات لیکن د تی امور ٹیس
شرافتکا معیاردوسراتھاء اس سلسلل می لک کی رعابیت نکر تے مین ز بان دا نکواپنے معیار بہ
01 رک چنان حر تک یکتاب زندی میں اصولی اورٹروگی خلا فیا تکا اک دج باب ےء
سکوشروع سےآخ رک مطالعہکر جا می نہیں آ پکوگنرے لے ا مرامات دا ہاماتء اور
ایالب وا یکوئی مطرظر :ہآ ۓےگی ء اور پورابیانھھی بی الوب میں ش رات وناب تکا
اع ینمونلظ رآ نگا_
تض اگوی و بے ہاکی:
اس شراففت نجای تکا بر مطل بکی لک ہآپ کے ساس ےکوکی غلط با تکہردے او رآپ
زا یں یی ء ری بات بگرضفتر ا لیت .یی نوا قریس ٥ی او علی ےلم
٠ 0 3 لم کا و کا ورک را
ا دلوکوں نے ا تنا طول دی اک ہکہاں کہا بادیا۔
جم بات کن میں خلوت وجلو کا فرقی زکرتۓ ؛کھرے جح می ںکبھی اھلا نف ماد تےء
ام ربا کے دورے یش ایک بار جحعہ کے لے کے یت رپ رآ ئے لد ری اکنمازایوں نے عام ور
برای شر ٹکو پیزٹ می سگھ ریا ہواے بضبرشریف پرکٹڑے ہوکراس بر عام تنییفرمادبی ۔کوئی فرد
تیم مات یک شرتی مسرائل میں نو سعات اورتسابل سےکام لیذ سب ض رور تی الا علانمگیر
فرماتے ءاورتفائل ے پالئ لام نہ لیے ۔
رت کے جذب عق وصداقت نے می فرد با ہت ری کک دٹی غدمات کے پیش نظر
صولیات می اا نکیل پسند یکوشھی قبول نکیا ای ط رح اصول میں تصلب اخقیارکر نے کے
16
دفروی مسائل میں جن سکا جو چاہے کے ہاکمرے اس روا نکونھی حخرت نے ہبی نکی نہ
دکھا گی ء بل اصول وفروع دوفو ںکوایت و تے تے_
ایک بادُڑئی کے ایک یلم جس میں حضرتتمہمان فی تے اوراچھی ا تیچ :ہآ نے
تےش روغ ٹیں بی کسی تتقرد نے الجارعتہ الاشر فیہ کےخلاف چچند جلے کت ہوے اعلا نکردیاکہ
اشرفی کو چنرہ رین جائ یں وہ صاحب سن کون کہ کر مہ گئ اور یہ الئزام حضرت کے مر
درد گیا تفر تکو جب معلوم ہوا دوسرے دن کے جے می ںآ پ نے یس من فک اس 7
کیاءاورائل سنت کے قمام مدارس اورادارو کو مالی اون دی ےک لقن فرمائی ء عفر تک یکن
حخرت کے پھ نا فل ین کے ہی ںکہآپ اعقا ین کا ف ریف صرف داضلی معاملات ٹس
فجام دنن ہیں اوراچنوں پرعم اورفق کی لات ہیں ء جب خیبروں سے معاملہ ڑا ےن خما موی
اخقیارکرتے ہیں ان لوگو ںکوڑھی اٹپھی طرح معلوم ہوک جب لوگ یآ دجض ینا تھ نے اتپ ولی کی
یی و0 بر ٹن کے 282 دارسں پر لو مآ زادی یک یتیب ےورس
کا گا نا لا مکردیا تھا اس وقت حطر تکی موجودگی می ںآپ کے ولی عہرححضرت مو نا “سر رضا
خماں قبلہ نے اس کے خلا فآواز الٹھاٹی اور پور نذاناٹی سے اتا کرت ہو ئۓ قمام رام کو
اس پک کرت ےکواہانتھاءجشس کے سب بآپ کےخلاف معاملکور ٹتک جا چیا ظا رعکوت
کےخلا کک نی بلنرکرناکہی ںو او رکا ے؟
رہب ومساک برا مت قامت:
کفارویش کین سے دوروففورر ہنا ش رلعت اسلا می اعم ےء ان سے ودادو ا اوت رام ےء
ای رب بد نم ہیوں بھی یل جول اورموالات چائ :یں ء اہ مکلے برق رآ نکر مک یآیات
ببنات اور احادیث طے, شاہر عرل پیں۔ اس ش ری عم سرک نل وو را2 يَا لاد رضصوںے
ا ا کا ا ٦ 9 2> 20-7 مل ای نمشان بن
گیا۔امام ات رضا فرس سرہ الزییز نے ایے دور میں ہر بک ندوہ اور بک خلا ف تکی خخالعت
7
پپرے شدوید ےکی ؛کنا بی یں ہر ہے شی مکراۓ ہم سلھ موا مکوائ سم کے وداد اتاد سے
بیانے گی اریت یک چلاٹیءاوراس زور وشور کے سا ھ چلا یکددباہیوں دا بند یوں نے ان
ارز نوازی کا الزام لگا باہگ انگریزوں سے جس ققرر وہ تخفر تھے ہہ مک نظاہرے ملین
انگ ہڑوں سے حات َ 7 ہنرووں ے الفت وعحب ت کا رشع جوڑ لیزاء 2 :
رلیوں وغیبرہ بدہہیوں سے دق یگانٹھنا ہرز دیندارکی اوردیاخ یں .کسی پخام امام اررضا
کا تھاءاورا یکو ےک رتضور ہچ الاسساام او رتضورملتی عم ہند پرے ہندوستزان مس گئ ؛اوراس
کےغلاف جو لو کآاے ا نکی شی مکی :لی نکی ءاورضرورت بڑ کین مناظرے سے اس سلسلہ
یس تت الاسلام اورمولا نا عبدالاریی ف رگ یھی کے ورمیانھن کی مانقا تکاوا قش پور سے۔ پچھر
بینشن نےکرتا رج اش رب علا ہاش رضاخخال اذ ہرک میدران می ںآ ےء اود دک زم گی خودقھام
مراہب باطلہ سے دوروفورر ے اورس بکودور ونفور رت ےکی نکر تے ر سے انس مھا لے یں
0ء029 ےکام نہ کھت ء بل دک یکو بمھہیوں ےنیل جول اور امتماد واشت راک
کرت دپکھت فو او نیہ ولق۲ نکرتے :اورنہ مان پر ایےلوگوں بھی دورر تن کا عم دتے ء
کہ ند اپنے لو کآ پ لا سے کے کو و 0ک
وا 0 وہ ۰ .0
علیہ یلم کےعھم پیل جار رکھا۔
جر ای کک رگ تک اس یکوششیں شرو عک یکن سک یعلومت ہندسے اپ ے موق کے
ول کے لیے مسلمان بات شی رہب وملت ایک پلیٹ فارم پر ہو جا ہیں شیک یں
بڑائی ان لیس رش لے ہو نے گے۔ ا نے علسوں ین جار ے ظا اورمقرر من کت
کرنے گے اف مسا تک وبراہب کےلوگوں ششتقل ہوئیء ایی موںع متضورتا ج الش ربج
اوران سے وابست علا ےآ واز انٹھائی ء ان ملسو لکا ردکیا۔ ہججائۓ اس ک ےک اصلا بح گیا ال
ذثو تکوقبو لکیا جا انال کے دفاع مس لٹرچ ارک کے پورے ملک میس پچ ملا با جانے لگاء
5 دوموں طرف ےلقرروں اورگرروں کا خادلہہوااور امت میس انتا رکی الیفیت پر ہوئیء
18
تیب بات بر ےک اس اخنظارکاسبب حطرت تاج الش ربجرادران کے اعوان والصا رکوثر ارد اگیاء
02 7ت سک کو نےکر جواخنت رونا سے پھییشہ ان کا سبب دہ ہنا سے چوک راہ ڑکا نے اورا اہر کے
موفف اورفظریات ے اختلا فکوف روغ دی ےک یکوش لکرے۔ا سک یکئی منالیی سگمز شیروں جدرہ
سالوں میں د پیٹ کوییں جن کےسبب بصن ر کے ابل نت وبجماع تکا اتحادمناث ہوا ے ء اور
شرازہ اےء٭ ننضرت نے این اعوان وانصار کے سا تد بی معاملات می ش رن وعد بث
ا پر ےر ۓل تر دی ءاورا ٹرورسول کےعھرکوی نقطہ اتادو مل ز ین ٹر اردیا-
2 جا رہب ومسیک کے معا لے می سکوکیٰ بجھوںی کیا یب اس
محا ٹل بیس ق رآآن وحد بی کےعم پش لکر ن اع م رھت ےہا نی عالات ن ےی باور
او ا وک پکو بد مر ہیوں کے سا تح تل جو لکنا ڑابہوحضرت نے ایک موح یر
را روف ےفر با جائع از ہیں قیام کے دورا نچھی می کول استاذ ید فرجب تھا
مس ال شرعیہ برا نتقامت:
ٹس ماحول میں جا ج الشرییہ ن نیہ سکھول یگیں اس میں ش راج تآ پکی فطرست خامی
نگ یی ءبچلرآپ نے اپنے مقر نکوابٹی زندگی شیع تکی سا میں ڈھا ل ےکا جخردیا۔
مسائل شرکوفردیفروٹی ہکا نکی ابحی تک مکرن برا یت تےء ا نکاقول فان ۓکرام کے
موا ا رج یل ہو ا ک7 روہ ثول اخ یا اور گا یب
کے قو لکی تل قکرتاءقام امور میس ہنی کے مرائل اور ای ححضرت سای کر
تھے جن وک0 و ون ا لا ا ا اس یں ا تحضر جا
یراس یں چندسرائل کےمغ اورداگی ہیں ء ھالائنک :تارج اش رب ف ہی کے ام مرائل بر
مل را تے۔
سفر تفر ہرحالت میں نما نکی پابندی فرماتے تہ اورٹ بین سے سفرکرتے ہو بھی
ما زس فضا وک تن سے ات رک پلیٹ فارم رفماز اد ار ولک ہآ پ خود ہرشرگی
متاثللے میں حماس تھے اورمسائ لکونظرانراز نکر تے تے اس لیےآپ کے علویی ںعوام وخوائص
19
ان مسمائل پل صاف ٹرآ ےگا علقنشینا انتا اش یٹس چجی نک یگھٹرکی پل کی روایت
نٹ گی ءا نکی موجودگی بیس لا وڈ یکر پرنمازنہہوگی مکوگی ٹاکی لگا ۓ نہ گا فو تو اور
یمر ےکا نام ونشان نہ ہوگاء ان کے مر بین داع یکی تر اش فرش سے بت نظ رآ نیس کے
خرضیک اگ بیس یکہوں نے ہرگ مالغ نکاس دور می سکر ٤ ارز بر مصط اص کی اتی علیہ
لم سے با ہو ےط ری پگم لم لکرنے والو ںکیکوکی جماعت نظ رآ ےکی ذو تضورتا جح
شرب کی جماعت ہوگی۔ حاصل بیکہتاج الش بی نے ش مت حقہ پیش لکرنےکا جوجذ باپنے
واہتلان میس پیا کیا دہ ب ےل بر ےء اور ا کا اج ان کے نام“ اعمال مس قیام تج ککیا
جانار ےگا ۔آ نج ج بکرتاج الش ریہ جماری گا ہوں سے پرددفرمایگے ہیں ان کے نا یی بھی
ان کے کی اورز بیت پیش لک یکوای دتنے نظ رآتے ہیں۔
ما لو ادہ رضا اورغا واو٤ صررالش رجہ
صدررا نر روہ با رکا دای جات یئ
تقو رصدرالش ریت علیرال رح امام اح رضافرس سرہالھزی کی بارگاہ سے جب واہستت ہو تۓے
پچ میں کے ہوگمررہ گے اپنا سار وقت اورتماھ ترک ری انا یا ں امام اررضا نیس صرہ کے نشین
6 جک 7ر یہ لا ہو سای گرب رک
سن تکا انظام وانصرام ہے صدرالش باعل حضرت سے ات قریب ج ےک قمام عان ینان
امام اترضا میں ان 7 پا بیع ےہ ورای ضر بھی اریت سے نزمادہ اعماو
کرتےی تھے یی ضرا نم ہس لے کت ال شرف کے لے
ےو وہاں سے ای ححضر کو اکنا ینس ہیں یٹ تصا یف رضاتحموصآشائم امتنبر برعاما ےت مین
8 ۲ "رش
وواجیبات کے حد در عبادات بر اس ضل(نقربطات نے )کو مقدم رک ےکا زک رکیاے۔
صدرالش رجہ اع تقر کی جیا ت تک ھی ںکی خر مٹ ٹس رہکر دبٹی خدمات امحجام د یت
رہےاوران کش نکیا حصہ بے رہے۔ ای حضرت نے این وصایاشرییف بی ابٹینماز جناز ہ
20
پڑھان ےکی وصیت این بڑےصاجمز اد ےنطرت چچنت الاسلا مک ہا میں ش رط ک یک نماز جناز کی
وہ ات با ہے َو 0 وہیادہوںٗء اور بادنہ ہوں لو صررالٹربینماز
جنازہ پڑ ایس صدرالشریہ کے لے ا لی رت نے النا دعائوں کے یاد ون ےکی ش رط نہ
کی اعلی ححضرت نے وصییت نا مہ دو پا رکھواباء ہلا وحیبت نا مب صدرالش ریہ نے بی اط کیا ھاء
اوررووں یں یی تھے کہ یس شریک ہہونے اورنمانز جنازہ بڑھانے
س7
ھم نے محر کب رعلا مہ شیا ا مصطف قادری مدن لہ العا لی سے سنا ءآبپ نے حضمور ما مات
علبیہالرمہ کے جو انے سے بیا نکیا ای رت کے اغتقال کے وقت پچ الاسلام دل ودب
کےا لے ارم نر تھے اس لے ان ماس ص رالش پلک مل رگای,
صدرالش یہن ان دعاوں پر ای ک ٹر ڈالی بچلرماز جناز و بڑھاٹی۔ یہ با تجضورصدرالش رجہ نے
مور حافطا کو جوالی یس ان یقت حا ف کا ذکرکرتے ہوے بتائ یی جس مج رے میں ا لی
حر تک مزا رش رر یف ےی میس پیش ال سنت ا مم تھا صدرال شر ینتا ا نعوں
مظام پہ جہاں ایی ححفر تکی قیرشریف ہے وہیں می ری شس تگا وی جہاں میس پرلیس کےکام
اتجامد تا تھا۔
اااساوم یلت اعم ہنداورصررالش لج:
لی حضرت کے وصصال کے بعد صدرالش ریہ ایب رشریف چے گئء ایک عر سے بعد
دوارامعلوم متینہ خاش ابیب رش ریف میں صدرالش ربج کے لیے حالات نا سا زکا رہو لئ و نطضرت بت
الاعلام یرش یف سے اوراننا می سےکہا کہ یں صدرا اش رب یکو لے غآیاہوںء اور ل ےکر بر :
شی مج مفس نٹ حضرت جیلالی میاں کے داماداورتا ج الش رجہ کے بہنوئی حضرت کت
یآ ما نکر جس71 ےق بر بی شرری فآتے تو ور“ الاسلام او رتضور
مق نم ہند دونوں شابراوگان ا نکو لیے پر گی روے امیشن جاتے اورشھی بر یٹ اکر
صورالش جوا شان سے لات ےک ہ اک طرف چت الاسلام اوردوسربی طرف مفتی انلم ہر
:2
بت ء اور درمیان یں صدرالشردیہکو بات حضورمختقی انلم ہند نے حضور ہہ الاسلام کے
دصالل کے بحدصدرالش یکو اع حخرت کا جاشژن بنایاءاورجب پیل جج کے لیے حضورطتی انلم
ہندروازہ ہونے گے نے لک ےکر گ ےک صدرالش لی ہکو ٹیل ای مہ در ےکر جار پاہہوں ایل حر تکا
عمرں بک سی گے۔ بیسادگ با قٹش جیلای میاں کے داماوضرت شوکت میاں سے نقول ہیں
( ملف ماہنامہ پا دش بجعت عف۳ اشارداگست ے۰۱٥)
مسر نم ہ+ٹراورصیررا ت- 7
صدرالشریب رتا ج الش ریہ کے وال رگ رای حر تمس رپنضحم علامہابراڈیم رضاعرف جیلانیٰ
میاں کے استاذ اک اورم لی تھے ۔ ا کا ت کر و رت جیلا لی میاں علیہ ال رح کے داما و نضرت
شوکت میا ںکرتے تھے افکھوں نے با اک صدرالشر بس علیہ ار جسلا یی میا ںکواور نما نداانعٰ کے
6 27 ری نوجہ اور اہنمام سے بڑھاتے ےہ ایک صاحب نے ایک دن
صدرالش بی ےکہا:حظرت !ان چو ںکوآپ بپڑ ھا کے قائل سے دےر سے ہیں مو پڑھ کے ہی
پکو ہیں ببچھییں گے _اس پرصدرالش ربیہ نے فرمایا: مولانا ام میرے پچ رک اودلاد ہیں ءال
سے ڑ ہدک رکیااعز از ہو کی رے چپیرکی اولا وکومی ری مع ضت یلم حاصل ہوہ یھے بڑی خوتی ہوگی۔
(ماہنامہ پا ش ریعتك فی اشحار داگستےاہاء)
ایز ےسب ےمفس اٹم ححرت جیلا نی میاں ححضرت صدرالشرمیہکاببت ات را مکرتے
تھے شوکت میا ں ال سکا ایک نم دیدواققہ میا ن۷رتے ہیں مک صدرالش رید دوسرےسفرںع کے لیے
روان ہے ورای ا اک ا می 3 ا رد تس ؛صررال شر بی کا
بی تھاکہ جب بر بی شریف1تے نے پیل مسو میں کر وضوکرتے پھر اع ححضرت کے ہرار بر
تہ پڑت ء پچ رجہاں جانا ہوتا جات ۔ چنا خی صدرالش یسر یس وضوکر کےکوڑے ہو ۓ جے
کہ جیلاٹی میا ںکوا نک یآ کے بارے مل پن چلاء لان : شے پپند نہ چلا ورنہ می بھی اشن
لیے جاتا۔ جیلافی میاں صاح بگھ ےل لک رحچد یی دسلا مکی ادرصدراکش یی کی ق رم بے یک ؛
صدرالش ربیرنے و بچھاہکون؟ آپ ت کہا : حضمور امیس جیلا لی ہوں یس گر( ببت پچھٹایا۔
(ماہنامہ پا +ش راجتہ ف۵ اشحار داگسترے امء)
22
اج ال لپ اورصررالرتچ:
جا الش لین ین سے بی این ۷۶ 2 بج
سنا ہوگاءاورنحلیعمات رضا کی اشاعت سے حلص ال نکی خد مات سےخوب واقف تے ء اس وج
سےتضمورصدرالیش ربج علیہ الرحیۃ والرضوالنع سے شیازمنداض عقیرت رسک تے .کی وجہ ےکہ
ج بھی موم من خرس ایال ا ا کے اک کی ذات جا ااثریر
7 ے۱۰۰ برک صدرالشربستا جال شر کے جداش امام
اح رضائ رس سرہ کےمتمق فاص اور ماذون دمیاز تھے دوسرکی وجہ رک صدرالش ریما الشریبہ
کے متتن ماع تری تمحر کی رمدطلہالعالی کے والد بن رمگوار ہیں ۔ تس ری یک یصدرالشرلجتاح
الشر یہ کے والگرامی رت مغ تشم علامہابرا ڈیم رضاعرف جیلافی میاں کے استاذ اص اور
ری تھے :ینس کاذکراویگزرا۔
صدرالیشرییہ ےعقیرت بی کےسبب ہم نے ویک اک تو رمفتی امم ہندر کے بدا داد
لی حطرت ٹیں سب ے زیادد تاج الش ربچ قادری مزا لاک ی) آتے تے اورعریس ا ری
ا را لے گا رو یہ ا وت :“0
ایل اجکی می تق رمرکرتے ہو ے خہایت پرزورانداز یں فرمانے گے حضورصدرالش رات علیہ
ارح ل بھی فت امم ہندتے بھی فت نشم ہند ہیں اور٘ لبھی فت ششمم ہندر ہیں گے۔
بھم ن سو ںک اک ہتتا نج الش لہا نان صدرالش رجہ کےتمام اف راد سےمحبت فرماتے جےء
اور خاندا نکاکوئی فرد بی ریف عاضرکی دبتا او رآ پک بارگاہ می حاضر ہوتا تو ہاں بجوم
مال وا دھام زائر با فحص وی قوج خر مات ء اپنے خریب ٹیٹھاتے کھ رس ےکھان ےکا اضظام
بجی وج ےک شابرادۃ صدرالشردہمفتی با ام صظ ڈادرگی جوطلو مل عرص سے گی
شریف میں قام رھت ہیں اورایک حر ص کیک وارالعلوم منظراسلام بیل نل ری خدمات اتچام
ہے جب وہاں سے ر یئ ہو لو جا لیے آگھیں چامع رآ ۔ و ےی
سلسلہ جارکی ر کے کے لے یے رکولیاء اوران تح ق تی ا ظا ما عم دیا مگ رسے جامعد
23
الرضا آنے جانے کے لی کا ڑ یکا اتنظا مک وایاج پرروز لانا لے جاک ری ء مدرسہ کے اوقات
ورای مکی پابندیی کے علق کی احجازت دٹ یکر ابی جوات سےئ ری سلسلہ جاریی رحاس ہنی
وہ ساریی ہو جو ایک اننظامیہ کے تحت کا مکرنے وانے یرس کے اور ہیں بھی
یں ہوفیں میں فر ہعمکرانیس ھیرے والرگرائی حضرت علا مب ڈراالمصطغا صاحب اطال اللہ
لہ علینا جب بر بی شریف جاتے اورتارج الشریہ سے گے فو ان پشھی دی نوازشات فرماتے
تھے بللہ رخصت ہوتے وقت میرے وال دکون رانہگھی دیاگھرتے تےء ایک بار موں بی وا چی
ہوکئین یھی نز را یجٹوایا_
یسب نماندرالن ال حطخرت سے خاندالنع صدرالشر ٢ھ کان تھا ححمورضتی
نم ہن علیہ الرحمتۃ والروان بز ات خووتقادری منز لکھو یتش ریف لات رت ہا نک یتش ریف
آوری پر دادگی جا نعل ہا ال رح ا نکی ضیاف تکا جوخحص وی اجتما مک رن ی گی ا سکا کر وگعممیں
00 9 ص2 - 7 991م
کے پردوفرمانے کے بعد نما ندانع کے افظرادتضورجارج الش رجہ سے جیعت ہوئے ء اور ناسل میس
سب کےس بتضورتا ج الش ربعلیہرال رح سے ہی ہیعت ہیں۔
اھ رچنرسمالوں ےجحضسورتا رج الش رجہ علالات کے سب عریس امجدبی یں شرکت نکر سے
تق صضورصدرالنش ریب علیرالرجم کے متقد بن اورزائ بین کے لیےصمولی پام ربکا ر کر وا کے س ول
ڑا ایر ڈلواد ہے ۔ بلہ ایک سال عیس امجدکی کے مو پر یک منظلوم بنا مکک ےک رپھیچاجنس میں
منفتی انشیعا رکا انلراز بے اممضردر باء کلام جب سو کی میڈ با رآ داش چا ں ہیں یں یریک
امام ہوا ا سکلا کوٹ ھۓ والوں نے اچ یآ وازاورانداز یس پڑھاءاور یکلام پورگ دیاش لآ٤
فا مقبول ہوگیا۔ رام افھروف نے 3۵ء یں عرس صدرالشریہ کے م وج بر پا تق عدبمتفتتی طری
مشاعمر ےکا آمازکیانھاء اور ٭ھ تک پابندکی سے ا کا اما مکرتار ہاء یہام کک اء
ٹس ام رہ چلا آباءان مشاعروں بیس سیڑوںپعتیں منظظرعام پآ میں ء او رعریس امیرئی کے جاے
می بھی ہریت شع ا منقیت ٹپی لکرتے ر سے مگ ران تام منا قب میں اتی متقولیت شا سی من تکو
24
حانصل نہہوکی ہوگی جوکلا تارج الشریکوحاصل ہوئی ذ یل میں چھ رتا نج الش بی کی ددمضقیت درح
ےئ
مق تصررالشریبازتا نج الشرییہ
لچ چا
ینس نگ
ا ا سر
مرا وا یرضوی ساں لود فرما ہی سکیا ائلی حضرت یہاں
عیں ایی میس چلے آے
مجر ابد کی مات نے جا
2 صررالثبچ کی کے دل ٹپ 0 و
ا لیے
ام اکا ساٹ لے ناد
کل کے رر را ام کر ود یم
7 ا
اہی ان ےسا نت
ظم مری واں منائی کی می بھی حاضرہوں یوں خائبان ہی
امو ا ان ا ہے
مجر ابد کی مات نے جا نے
خم کو ابر رضا سے ملا ےحکدہں اک مال ہوا یادہ خوار رضا
عیں انل مس چے آے
مج ابد کی مات نے جا تے
رن جیرے دا گو رہیں کے سد جام دنہ مھردے را ساتا
25
عیں ایل مس چے آے
مجر امد کی مات نے جاتے
گے نر بھی ہوک مکی مظھر اس کےدائسن می بھی ڈا لیے باج ھگہر
ع میک مس چ ےآ ئے
مرا مدکی سوطات نے جا تے
تو ےہ 4ہ ضا 227
تح امپزعلی سے ےعحفل بی ان سے رضا کی خود امچری
ما تک لد جب رضا کیاکی ان اُجھن سے کہ ۶
اکا ہے ابی سے یا من ا یتور یھو نے بے رجا نا
مک ا لی حضرتسساامت رے ٤ھ 0ە0 یت رج
ا نے
مدرامکی سوطات نے جا تے
ماج اأش بجاو رمیر ثکیر:
تزت محر کی ھا تہ ضا اص فی :قادری امیر مذظزالفالی او رتضمورجاج اش رت علیہ
لمت والرضموان کےآ نی تعانقات سے تے مہ بتک ظا ہرےہکولی بھی ال سکو بنا سلما سے جب
محر کی مرن لہ الالی نے جا متام مہ رضوبہقاظ مکیا ھا ا ںکاسنک بفیاد رن کے لی تضمور
جج الش یورگ وکیا تھا او رتضمورتا رج الش ریب علیرالر مہ نے اہن ہانکھوں سے٣ رذ والقحد و مزا
مطا ای ۱ راگس ت۱۹۸ ءکوا سکاخخشت اولین رکھاء میرے ہویش میں تارج الش ریہ یھی یں پہ
یآ شی ء اوھ تین سال کے بعد ا٣ جو ای ۱۹۸9ء مطا ِی رذ والقعد دن +۱ کسی مکا
آغاز ہوا۔ اس جشن افتتاج کے موںح بھی تضورتارخ الش رب تش ریف لا ۓ ء کے بکھ یا دا تا سے
کیپ نع بی ملق رمیفما یی ء اس ز مان میں ححضر تک یع رب ینف رم کاڈ اشبردتھاء انس کے
26
بعد رتضورتا ال یں امیدی کے مو پر بار اھ و یتر یف لاۓ ۱ او رخ ری مارگھڑی می ںآ ھ
تو رر ٹکبیبر مرلہالعال یک بی دگات پ آپ کے صامجزادے مو نا ابو اسف ئ صاحب
از ہر یک یتقریبثحاج کے موق رہوئ یی ہتضور ناج ال راہ نے صا تج زادہ محر کب رکا ناب
بڑھایا۔
مو رم ر کی رکوتا رج الش ریہ علیہ الرحمہ سے بہت گہرا لگا َء اور می حال تضورماح
اخ٥ بے ضریی یر نا میں کا کی ضریر۔
کی رکوتحضورتا رج الش بی کی ز ان وت مان شھق یی ء و ہیں تارج الشرویرکویر کیہ رکا تار کرات
تضورکر یگی۔
میرىی بادداشت کے مطا بِ حضمورمحر کی ر و رنظلہالعالی کے دورے +۱۹۹ ء تک اندرولن
ولیک کک محدود تے ا امعد الا ر راخ اص رررں ارح پت نے ساب
تزرری مشائل میس بہت مصروف رسے ی8 ڈاء کے بعد محر ثکیبر کے برثی عمانک کے
دورے رورغ ہو ۓ فو جارج اش رب او مز ٹک کے ددر نے سساتمخوسا تج ہو نے گےء ان رکے
لے و ا سے اس رر ما نوس ہہوت کہ اندرولن ملک اور پیرون ملک
کوک رن وا لے قعرا کی خوائی بہوٹی کک دونوں بن رگو ںکیتشری فآ وری ہوجاے۔ سمل
21 ۰7۰7ھ دبیرولن ملک ا بے ار جلے ہو ۓ جن میں دونوں برک جا سخ
ہوتے۔
محر ٹک رکی ولادت ٢رشوال ۳۵8ات یں ہوٹی ج بک تاج الش لچ ہکی ولادت
٣۳ اعد د ساد میس ہوی اس اختبار سے محر ٹکمی رع میں جا رج الشربچہ سےنقر بآ ات
سال بڑے ےمم حر ثکیرنے ہراعرار ےتا ع اش لع وی ڑا ھا۔
ہرچن دک تضورتا رج الش ریت نطرت محر ثکبب رکا مڑ الا طذغ مات مین حر کی رنے الن کے
ات این تعانقا تکوختقیرت مندان ہب جاری رکھا۔آ پ تاج الش رکا یسا اد بر تے جیے
للپراتنے اسا ت2 کا او بکرتے ہیں وھ یبھ یک کور کی تاج الشرویہکیشخصیت می تضور
27
مفتی نلم ہناراورامام ام رضاٹ رک الشع: 7 کیخخصیت کے جلو ےچس یکرت ہیں۔
صضورمیر ٹکیر یتور رج اش ریہ کے الطا ف خس ردان جج یکم رج آپ عنابات
,000موم پا ا
کو نےکرا نکی خخصیت پ ربچ اچچھا ل ےک یکوشن لکرتے مارح اش ری ہکو بنا چلا فذ مخت ناراض
ہو ٤ او مر کبیبر کے پارے شی الیے لوگو ںکوخت تخورف ماٹی .تارج الش کت محر ثکیی کو
ملک اعلی حطر تکا سب سے ڑا دا گی ھرار رت شا ینار ٹیس محر تکیر پر اس رر
اخادفرما ےار پیل کسی پٹ مسا مھھنااز ےکا رٹ نر او سی رد ۔
تاج الش ریہ کے وصال کے بح رتضمورمحر کی رزمبا ہے کے دورے بر ےر تضصورمارح
اش ریہ کے ایک مر بد نے حاض ہوک محر کیب ر سے طا اب ون ےکی درخو اس تک ۱اس ب محرث
یبر نے فر مایا :ا سک یکیا ضرورت ے؟ ج بک تمورتا رج الش ربہر نے خودفرمادیا ےک حرث
کب رکے سار ےھ بد می رے عم رید یش او دج رے سار ےھ ربا محر کہ ر کے ع بل میں ۔ محررث
کب نف مایا :شی و خودائسی اللہ سے ب:ریست ہو ں نتم مہرے پا سکیو ںآ ۓے ہو۔
ایک ہار جب رائم المحروف ام بی صوثی ایال روح ھا می مکیلر کے ایک متا ل ےکا رد
حضرت تا الشر یہ ےھ تھا( کا کر گآ جات )اس سک خی سک را ہہ ئل دوںنان ایک
ددم ماتاارنۓ ا ےک مارت جم و ایی انت غورکلانے بس ہور تھا کہ یھ
الفا ا لکن سے رہ گے ہیس ء اس کو کے لیے میں نے حمو محر کہ رسے رجو حعکماء اور
گز ا ش کی 7ں مس یا فا يشننا یی انس رائۓ سے
انھاقی ندکیااوراس اقتباا سکوتنظ فا تد ریکھاء دم کک مطال یکر نے کے بدا سکیانش ر فر ماک ی مس
کو یں نلم بن دکیا۔ بیس ن سو ںکیاککہ یذرقی یھی معاعلات میس جعارے بذرگوں کے
ریم ار یں دنن ری ین سی کی اود ا تک گت
7رہ
دووں بز رگ اپنے عہدر کے یم نیہ ہیں ء اورفقاہت ٹیل ا نکا اب ہت بلند ےہ اس ںکا
28
اصاس اس وقت ہوتا سے ج بک نی مکلے برخوب مطال کر کے ا نکی بارگا ہٹس حاضرکی دی
جاے اور ا مس رانک کی جااۓے۔ دولول ہز رک ایک دوسرے سی
اتصواب رام ۓگ یکر تے تھے ایک پارسمندر پور بایا بیس تضورجارج الشرکجہ اورتمورحرث
کی رکا روکگرام فھاء دونوں حر اتپ کر اٹنے اپنے تج رے می ںآ رام فرما ر سے تے اور دونوں
ارگ ہوں یں متنقدی نکی چھیٹڑسی ء می تارج الش رای ہکی بارگاہ ٹل حاض رتا رت جیہاں ہوتے
1ص 0 0 تارج اش ریہ نے این حادم مان کویحر ثکی ر کے یس
بھی اک معلو مک واعلی ححضرت نے ان الب ہکی نشی کے تا قکہا ںککھھا ہے؟۔اىی طرح محرث
کب رن خود بیان خر ما اک ین وا نے وٹ می س نما ز ھن می سکرابت ے پانہیں؟ اس سےنتعلق
تا جال ریرے در یاف تکیااورجواکھوں نے ارشادفر مایا اس پر اخادکیا۔
.
فی رتا ج الش میک نوازنات
صقر تکی مو جودگی بیس جماری طا اب علا تقر 7
بے بادے جا مع ہاش فیہمیس زمڑعلیم تھا جدانعت خامسہ میں فلسن اوریضطن دوموں نون زم
دی تھے ء راثمکو نار گی مطال کی روا ای وا
الد یر فو یل مطالعہکہ چک خھاء اب فاسفہ پڑ ید پا ھا لال ررکی ے کرت اہر ٹی رولف و۔
قد یریت" کا ایک پرانا ےی لگمیاء اس کے مطالعہ بی منٹمک ہوگیااورکائی عحنت سے اس کا مطالعہ
مھ لکیاء پٹ زعرص دعس رشموی یس ب گی شریف جا کاانفاقی ہوا۔ ال زمانے میں نضرت
تاج الشری علیہ ال رح کی تفل مار اعلی رت کے عقب میں پرانے از ری مس ہمان ان ےکی
سیت پرہواکرنیشھیء اس کے بحداز ہرک مہمان خانہ جب تیارہوگیا تہ بروگرام اس می مل
اہ میں اہ پل میں حا رتھاءاوراس دوربیس علما ۓےکرام ای گی تداومیس ا تل میں نہ
ہوتۓے تھے بل ش روم ہوئی و بے ماکک بپرلحعت خوالی کے لیے بلایاگیاء ٹس نے م اتک بک
نع خوالی سے مر کرت ہو ے ای عظطرت کے علق بت مات کے کیا اجازت لن ےکم
29
قرب رشرو ںعکیء ا بکک وو اق ش تشم اور میں موجودےکہ چندفٹ کے پا کے برتضورتاح
لش چاو رتضورمحر ثٹکیبردوٹوں بن رن کتش ریف رما تھے اورمی رب یق ریمعت کرد سے تےء اب
تخل میں ہم نے علوم حتقلمہ میں ایی ضر تکی بہار تکی چندمتالیش د بی شرو عکیںء میس
نے عو کیا :فلاسف کے ہی ںکز مات فل کک ممقدار رکم تکا نام ےء اور اع ضر تم کت فل ککا
ردفرماتے ہیں اورفرماتے ہی ںکہز مانہ بعد مو ہو ہک و کے ہیں ۔تق رت مکی نو دونوں مزرگ بہت
خیٹل ہہوۓ اورخظضرت حر ٹکیہر نے ای وقت تارح الشراجہ سے نشی رکا تار فکراتے ہہو ۓے
فرباا: مرا جیا فیضان ال صطفا ے .اور مھ د کک رف مانے گ ےکہمی رای ںبجدد با کہ فیضان
تی بی ملا ےت واکر شرب انلم
عظرت سے بینم تک سعادت :
اس کے بعد جب حطرت ایک مو یھو یتشریف لا ۓے ذ انان کے نے افرادہیجت
سے رہ گے ے سب نے حطرت سے بیجع تکیء ای موٹع برق رکوکھی حطرت سے ویج تکی
لاو ا 000ےہ ا مر یی ا
جا مد ینار باءاس کے داع اہ روانہہوگیاء دہاں پاچ سای قیامر باء اس کے بد ددم بش
جب دای ہوٹی اورتحخر تک پارگا و ٹیس حاض رب یکی سعادت حاصل ہوٹی فذ حضرس تک نو ازشات
کا ایک سمل رو ہ وکیا ہنروستمان بی چا رسال قیام در باء اس دورا نآ پ تصیرہ بردوشریف
1 رھ و و کت رات پے ا
رپکارکرواۓ نے فقیرکوگھ یکنیچواتے ء اورک نکر اپٹی راۓ دی کاگھمفرماتے ہ ہعاراسینہ چوڑا
ہو جا مکیححخرت اس در جک رم فرماتے ہیں-
تمام اف رشن پرامر بی ا کال رکے اع اش کاجواب
ام ری سکم اکا رنوح جا ٹی کیل ری ردب رما ہگج ید نے
دو ند یوں برای حطرت کےفت بط ر رت قیرکیحیء اس نے اس حدتک ذ اع ححضر تک حمابیت
00 90000
30
کیا ناء ہرم انکر گی زبان بی سکو پوپ دامم پلیہ کےآزادماحول میں خاصی متبولیتل
ر2یاجرستگ کہا لکا رد کیا جا ء پیا رگید ٹیا کے علا ۓ ایل سنت رنظری کروی ا سک
جواب دے۔ پا لاخ تضورتا ج اش ربیرنے اس پرکا مکیااو مل جواب اعل اکر دای اورخوددی ان کا
لکش میس تر ج کیا ء اس کے بعد جج ےم ہواکاردومی نشی صکردوںہ چنا خی جم نیت سکر کے
اسے اپ مور پرمرت بکیااورخر تک بارگاہ یس حاض رکردیاءحخرت نے اسے جھارکی طرف
"09
حضرت کےآ خریی رپ می ں_حبت :
۰۹ء یی رائم الھرو فکوح اپلیررم وز ہار تکی سعادت حاصسل ہو کی خوشمیو ںکاخمرکانہ نہ
رباب معلوم ہواک تو رتا رج الش رب رشگی ری کے لی ےمک رر مہ ئے ہو ئے ہیں ۔ شال سعادت
مندکی یگنت ہوے ححضر تکی صحیت میں ارک نکی ادا ھک یکی تنا جاگی ءاورز سےنحیی بک
عرذات دز اکس حضرت یسیا وو کا مو مہا میں ا ا یں شا
سی دورانطوفای بارش ہوگی ینس سے جدوییش یک پل ٹوٹ جانے سے بڑئی تا یک یی ینس
یجس کاٹی لوک م رگئے تہ اس وقت حضرت جدہ بی یل قیام پذ مہ تےءلنن سی جان کا وقت
ہو کا ھا اور میں حا لات اجیکھے تے حر تکونتو ہیی ای ای م۲ سیلا یی کیفیت ہیی ے
رت کے مصدا ین سے ٹون پر بات ہوکی ءالھموں نے فقی رگم از لکی حر کومنی کے
عالات ےآ گا ہکردوں ء چنا خ رت سے بات ہو اوراس کے بحدحضرت پورے ا کے
ہے سا نی ا ہے بے کو یت ای اک ا ا ری ری شمت میں رام
ےعدیثپاگ” الحج یوم تحجون والعمرۃ یوم تععمرون “ام مو معرن کر ے
رسکی راے معلو مکرنا ابی ہخوگی ہوٹ یک ہمیق رن عس کے حضرت نے ا کی نمی
فرالی۔ الب ۱۹۸۵ء ۹۸ء میس حضرت نے جوسفر کیا تھا سی شیں سحودییعکومت ن ےآپ
کوک رفارکر سے تل 7و روا او رطروطتای وا ںکمردیا خھماء اس پر پورے ہندوستان میں ا حانج
ہواء بل سحودیی علومت بردنیا بجر سے اما گی دا یڑا ءجشس کے نلج میں سعودی عکومت نے
31
حضرت سے اپئی نشیس ال یں بس کے بحدسفری می سپ کے لیے دشوار یی ںاھی ین
اس کے بحلر ایک طو یل عرھ کک رت رکون گئے ء می راخیالی ےکا کیا وجرسجودیی روبیت
لال کے ظا مکی خرالی سے جن سکی منایر خر ت تقر بب ہرسال رضان شریف میں عھر ےکی
سعادت پرقاعحتکرتے تے-
اں سال (۲۰۰9ء )تھی مر رف ارہ اہ یں رویت تا 2
اعلاانٰ کے مطابقی ایک دن پیل ہی وقو ف۶ فک رایاگیاء ایی مو بر رت اصصل تا رن بر قوف
عرفہ کےفائل تھے چنا 2 کس باد فوف۴ فہ کے لیے دومر ےدان جم فاات ردام ہو نے ساب میں
تین احہاب شش ریبک تے ا نکا ایک فا فلہ ہوگیاء م دوف بھی ساتھ ہو لیے دوبارہ وقوف عرفکرنا
پیک بیس ٹوا بین والیچی بر مزدلفریی وٹوف ایک نل اھر ےکی گا "وق تی صا
مجلراہوتا ےکن اپوراھردلغہ ای بہوجاتا ےءاورشب سیل تار بک اورسنا ٹا سچھاجا تا ے اورا قافلہ
ضر ےکی صعبت مس روب فیا ا تماقا خروب با دای کی
اورھزدلف کی عد یں دائل ہوکر ایک مقام پہ ابنا اگ شیمہ لگادیاگمیاء دہال وی رات تام
باادرکاقی درک تام حا رن حطرت ےٹیل اص لکرتے رے اس یجاس میں ححضرت نے
تاب کییضوریھا رات گر کے ےت فوقو فیعض تار براداکرتے ۔ بر ریف :حضرت
کےساتھ وو فی۶ ذہ کے سا تح وقوف عزدلغہ ین وخ یم لکی سدعادت حاصل ہوئی اس
کے بعدخرت بای ارکان اداکر نے کے بحدرجدہ روانہ ہو گئ ء پھ مپھی ریہ مناہک ری سے فار جح
ہونے کے بحعدجدہ گے ءاور جار بال کی سعادت عاصل ہوٹی ء "خر تکا ناجچزبہ بے بایا نکمم ہا
,۲,2 نر اہوتے اگ رحاضری ہوٹی تو فو را اپتنے پا بلا لے -
شی کبزا رمی سخ کت اورتا رج خاففت :
شریکیس لف ان یا ہبی شریف کے کی ینار میس شرکت ہوگی ہیک سال سی وج سے رائم
اروف کے نا می سیمینا رکا دگوت نا مہ تہآیا او رآ پکومعلوم ہواکہ میں حاض رکچیں ہور بانہولء
ان نیل کی ار ہمندی پرجران دہ جات ہو ںکححضرت تا اش رت وو
32
فو نکیا اورف ما الکرنہ چان کے دحوت نامدد گیا پوض رد رآ نا ے :ہچ مآسگریاء یٹس نے کی
نیفدت کی نت زان و اض یفن کی نات ے
مر تمورمیر تکببر و رطلہ العا لی 9 6 ۰-- ھی میرے نام و
یییینارکی چنداہم ذمددار یں کے ھ انے سے اعلا نکردیاء اس طرح شر یسل بر بی شرلیف
کےٹشیکییبونار کے لیے سوال ناس کی تی بکر تن ےکران ےکا کا فقر کے صے می ںآ یاء یجےہم
نے ا گے تین سا لو ں تک تن روخ پی نچھا ن ےک یکویشن کی ء چناغچرانگلین نا ردے وغیرہ جہا ںیگ ری
کےہہینوں میں شف اہی رو ب نیس ہولی وہاں عشا کے وقت کے کے برسوال نامہ ہماری
تیب سے مفتا نگمرام کے پا کھیچاگیالحان ۳ اہب ء یس پچ رام رب ہکا سفردر ٹیش ہوا اوراس
ار اھر اک نے مون ند یا کی ابی ش کت ہو کے۔
۹ء کٹ نی دنا رمیس تضورتا ج شرب علیال رح نے را پر بی کر وا زی فرا کہ
علما ۓکرام اورمفتتان عظا مکی موجودگی ٹیس انی خلافت واازت سے وازاء فا لمد ری لک _
تاج اش راجرے والستۃ بینواور باد گں:
ایک اع رض وی کے مو پیا یراج مان والوں نے اصرارکر کے رام کواپٹنے شر
میں عیس ا لی ضر تک ینف یب میں مدیوکیاء جوشیان عریس رو کی تا ر ار رک اگ یا تواء دوونع سسلے
ہبی شریف عاضری ہ٭وکیء بہت دفوں سے بیچھی جیب وخ جب شوقی پا رکھا تھا یھی ائٰ
حخرت اکلہ سے سف کرس گےء جب بی شریف سے اجمی رش لی فکو چاٹی ہےہ ا مو پہ
بھم نے اسی ٹر بین سےگکلٹ ہنوالیاء پارگا ال ححضرت بیس حا ضریی اور فان خواٹی سے فا رح ہوکر
تضورجا رج اش رب علیہ ال مم کی بارگاہ شش سلا مک رنے اوراجازت لیے کے لیے حا ض ہوا نضرت
نے اس مو پر جو وف مایا ا کا ذرااندازہ وت نے ہرگ لی کے پر وک را مکا وعدہ شکرتاء یں نے
جب عون سکیا تضمور پالی راج مان عیس ای حطرت کے پروگرام میس جار با ہہوں ء اجازت
دی بی ءا پف مایا ادرے مکی ہوگیا؟ابچھا آپ نے وعدءکرلیا اذ جاپے نل نآ سندو خیال
ری ےکہعیس کے دن صرف ہیں حاضری ہوٹی چا یہ رام کو بڑیی شرمندگی ہہوکی ء نداصت
33
اورلچٹھالی کےسات پا لی کے لیے روانہہوا۔
ہار مال موی رج یک۔ام یلین ری مصردفیات نے خری با چوسالل ضر تکی
ضر دورما ات۱9۹9ء سے ۰ء کے درمیان مین بار اع بی کا سفرکر گے ےڈ
ام ہبی قیام کے دوران ہم ےکوشن شک یک نر تکا ایک باراوردورہ ہوجاۓ ہک ث رت
کے و ہن ےکی مدت کی ہویگ ینعی اور عااات وصروفیات کے سبب دوپا ر٥ وس زا کے انٹرو وکا
امام نہ ہو تکا۔ اس وجہ ےگھھ یآ خ ری سمالوں میں صحب تکا شرف حاصل نہ ہوا۔ تا جم وفات سے
ایک ہیل پزر پییفون حاضریی ہوئی ار جو لا کی لام ءک یک ٹون یرم ول نا عاشتن سن صاحب
ریا ےلات ینا ؛ وصوف حرر کی امیس مدجود تھے ءانکھوں ون نو برے
خر تکومی را سلام وی ںکیاءکئی روز سے بات یت بند ہو یی بنقی رکا نام سن بھی حضرت کے
دبالن مبارک سے بج آوازنگی اورحطرت نے پاش شاو بے ہ بعد میں معلوم ہہواسک ہآ خر پار
انشمارے سےج کا سلام وکا -ضرت نے قجول فرماباان میس ریٹشی ھی شزائل سے۔
ححخرت نے ام یہ کے سے سفرمیں بے یش نکی مرلزی سچرالنور میں سورٗ اھ نر کر
تیر یا نکی ج سکنخقیئرقرشن بستوی صاحب نے پیر راتا کو حا لک کےہم
0 رر کاب ٹیل شا لگردیا ے_
7 و
4
جا اأشریعہ کے وصال پردا کااداریے
جھماہنامہ پنا ہش راجت دی کےتردراماء کے شا رے میں شا ہوا۔
تارج النش رک وکی رعلت اک عی کا اض
تضورمارج الشرببہ رخصت ہہوے اور ایک ع رکا مات پموگیاء 7 کے اشن ےت ودار
ہونے والاعم: یت وا تق صتکا سو ربخ اتی تا باٹی سے اسیک عا ل مکود وش نکر کے پر بی کے بی الف
یش پیش کے کی رو وس وکیا
تمورج ج ال لی علا مہ اض ررضااز ہرکی نے لوہم 3۳ء میں اس ار میتی ندم رکھاء
امام احررضا زور کے 1ن مس و اگ ی :نمی ںتضور چ الاسساام او رتضورمفتقی انلم ہر
:"۱000000 و
وی ںگاء او رمفتی انم ہن دی صحب تآ خرکی در ںگاہ بی اوراس درمیان درس نظاھی کے لیے
منظراسلام بحصریی علوم کے لیے پر بی کےکا رن او رع ری علوم کے لیے جا مخ از ہر کی فضائوں
ا .افج ٹیس خودفرما کہ از ہیس می اکوگی امتناذ بدرہب نہ
ا نی یکا دنر ہب کے مج ً- ار ےک ع زم کھااورتا ربا انے ندم ندم برست
یر یی یں ےک ا تر کک کا رن انی کم
سللسلیشرو ہواہمفتی انم ہندکی مو جو دگی ہیں امامت وخطا بت نہ رسس اورفمق کیو سی شرو کی
اور جب تضورفحتی انلم ہن 8۸1ا ء میس دنیا کی ٹگانہوں سے رواش ہو گ ےو اینے خاندا نکی
مھی وی دراشت س جا لی ادرابنے بز کو لکی امن یکا اواکردیا۔
وجار الیش ریز علیہ الریۃ والرضوا نم لہ ز بولق کی اور اختتظامت پالم بین کے
اقبار سے دورحاضریں کل بے شال تھےەدنیاان کے نام سے جاہ وجلا لام ہوم اخ دک لی
تد کی وا ون تن اش فا تک تارف عاص لکیاجا تا تھاء جو در ہو یں صدی اجری
دین کے مھا لے می ںکز بب تکی پچیان تھا ءا نکیا حیات وخد مات کے درجہنوں پپہل کو کول گکوں
35
نے بپچیانا اور نکی اور نہ جانے سکت گوشوں سے لوگ نابلمدرےء بارگا و لی اورد بای رسمالت
اتی می ا نکی متقبو لی تکوا نکی رعلت کے بد ینک یکوشت کی جاردی ہےاورکی جائی ر ےکی
ا نین ربردیار ہند یں شی رق لکی حیشڈیت رای ء ج بکسی معلہ مخوروگکر کے بعد
ایک را تا مکرتے فو وہ اس در یی ہوٹی کہ بحت وشفی کے بحدگن اہ اس سےسرمو
را فک کوکش ہیں مختیا نںکرام ابنے ابنے خلے کےعرقع خلاکن ہوتے ہی ںین تاج الش ریہ
اکا برعلا اورمختیا نگرام کے مرخ ر ہے .ہنا ء ٹیس مفتا کرام کےایک جم فی رن شر یکیسل
ہبی شرییف کے ایک اجلاس میس متخ طور برآ پکوقاضی النتعنا ۃی الہندکی حیشیت سے تقو لکیاء
یٹس کے وہ ببہت پیلے سے ال تے کیو لیک ہآ پک ذات ایک ز مانے سے خوائص دقوا مکی
م تحت یس مایا رو زکا تی خقر چامواشر فی رمبارک پورییں أس وقت زمن_ایم تھاج اس
شی یا چنا رکا آناز ہوا رت ماج النش ریہ علیہ الرح نچ لک حق ضا ےت ریف
لاےء ہم نے ویک ھا کی مت پرمفتبا نکرام طول بت یس کے بحدیھ یی نت جک زیت
ول او ورڈ ے سوا کل اکس بی ان الا یر با رت یی وگ
اکر لا ای سے یل اورڈ کی م رکز ی مو زیش نی حضرت جا ج الشر یئن موی کے
با رکوٹی فص لیا ما٠ تا رج ب لی بر بی شریف کےےشھپی ینار میس ش رکم تکا مو قح ملا ہا ںبھی
ھم نے دی اک مفتا نکرا مکی تحقیجات واححا ثکا خلاصہ٦ضر تکوسنایاجاتاء جب سی کے پہ
مشکلات درڑں ہ وی ںتذ رت کی راہے معلو مکی جال )پوپ کس رر
وھ
قول عا مکی عا مہ چنڑحو ںکی صحبت کے لے افاضل علا نی جہوتے ء اور عامرت: لاس
چر٤ اور کے دیدار کے لی ےاچجومکرتے ءز سےنحیہ بک اگ رس یکووست وی کے لےحضر ت کا
تو لگیاء جب سے ؟ نے وش سھالاحضر تکوچوم میٹ پابا بھی ہم نے ند ھا سضر ت اتا
"وھ ہوںءاس قررمتقبولیت کے پاوچ كلی میست' 7
رای کراے کات ولول. انکیٹ خطا ببھ یکمرتے ھے کر نون سے پان سیرعا سادہ
فَوَلُوَاقوْلاسَدیُدا آ فی ہو * جہن ہوا صا کفکہرد تت ء نہ چھا رک بج رکم الف کا ا تاب
36
نگ ڑرات کا ع 'اور ہآ از یف نکر نکی ضرورتء یھی ا نکی بزم میس حاضربی کے
لی ےگوا فذ عوام فرزان بھی دیدانے ہہوئۓ جاتے اوراس دوڑ می ںکوثی اکا سے تی ندد بتا:
خوادوہ رضموی ہو پا ار ”قادری ہو با شی ۔ھمومرشی اورویڈ وگ راٹی سےجخت پ ہز کے پاوجود
اکا داان سے متعار گی اوراینسیاں ہرسال ا نکودنیا کی مقبول تن یتقو کی فہرست
یرم تیہیں۔
اںٹر ہااللہا موی یق ا وا مور نے ز می نصی کگئیء چندماہ
ٹل ات ین ما یدع یہ ام ریہ ےش کاناورسادات و سے رد
گر ھی ںطلہ شر عتقا مرکا درس درے باھاء انی 0 ھ .2ں
ودل وڈگاد ا خر پر ی٢ نکر نے کے لے تا ریس تھے پگردو چا ذرائع خی عا لکر نے کے
لی نکر نے کےسواکوئی رون تھا حقورتا ج اش رییکی رعلت ہو وحواس بی بی نک رگ ری
ایک جیب سا ا ماس ال راء اور ا بجی دنیا میس تھائی سو ون ےگگیء ہرطرف ار بکی بی
جار 1ھ اکراپٹنے وجودکی ا ا و وم ہوک ٹیچ منج رھارمیس چو لے
کھارچی ہے۔ اب گ مکہاں سے و تحخصیت لائیں پش س لو ری قو مکی آبرہ دمیوںء 7“
ش لیج تکی بے لاگ پا دار کی مات جچھییں کون ہے جس کے تر ےکی ایک جححکک دجن
کو مامت النامس پچو مک ربیی۔
تاج الش نے او ری د ٹیا کا سن رکیاہتحصوص ]حا رب افرایقہ اود ورپ کے ات ما کیک
کواینے فیرموں سے لو از ا نکا شا یں یں معلوم الہ 3ء سے اشنا ء کےدرعما نآپ
کان بار ام ہیل کا سفرہواء یہاں ببت لوگ مم رید اورضطرت کے یش و برکاتں سے فیس
ہوے۔ بیہا کی رکز یی مھ النور مس اس زمانے ہیں حطرت نے سورہ ال نشر حںک یح رقیر
با نکی جویی ںکیسٹ می ں تقو ظا بی ءہم نے اسے حاصم لک کے ترجبیب دید یا ےہ جے اب
شقن یگیل کے .اس وفت ج بک ایک دورے می ںحضمو حور ےکی بھی سات میں تشریف
رک تن دووں بزرگوں کے ذر مج ایک بڈایادگارکام ہیہواک شر ین کے اوقات صلا > کو
اوج ررقت این تی ضا ارت یں نک ازس این
37
یہاں کے علما تۓکرام ن ےگئی کے اس پ رکا مکریاہنس کے نیج بیس پور ےسا کا دای اوتمات
صلا ؟کیلنڑ رتوارہواءج لن والوں کے لیے دہ بڑڈے با دا لحجات تھے
۳ءء ۵اا ء می ژفقی رن ےگئی با رکشت لک یکی حر تکا ام یل کا دیز ا ہوجاۓ ت ہیک
اداوردورہ ہوجاے مر عزالت کےسب ب حضرت لی ںگ یک رد یی ء اور رواب مدر؛
یرنہ ہو کا فقو نے ۵ا ہام میس جب حر ثکی ر مدلہالعالی کے ام بل کے دور ےکا انام
کیااس وقت جخرت تا ج اش ری کی ہنس ہہوکی بححفرت مور کب ودظ لیکو د یوک رلوگو ںکو
پیل سفرک اد یں تازہ ہیں
رکیف تاج الیش ری کی مو جودگی اعیان ال سشت کے لے سکون وال نا کیا با نی ءان
کے فا میں ہرمیران کے سای ہواکرتے اوران تھا مکوتا ج اش ری ہکا یا عاطفت انا لی
عط اکر تا ماء میدران خطابت کے شمسوار پانأٹپی مال کے مندو بین بتصفیف وتا لیڈ کے کان
اوررزمگاومنا رد مےخاہ رین کا کی ذات ےکا اورردعا ا 11ں
ووس بجی کےکرب ٹیل مبتلا ہیںء ۓے زماشرا نک چھلا شہ پا تگنس نے تا کیک داہہوں
یس شیج تکی ئل را یں رن کوھت بی مدم مہ ہونے .08 و
نراروں لآ ۓ گرا ذات نے طوفاا نکی زد بر استنظامت کے جراخ جلاۓ اورجلا ن ےکا
ہنم دیا۔ الا ای یں ےھ ا ا نی ان اد رکف تطرف
ماس ری میا انا تھاء یی صورتیحال اوری انی کے سات تارج الش ربج کی حیات یں بھی
ای ری ءاپنے جدائ کی طط رح اس بن ٗ خدا نےبھی چھاولو لم جارکیرکھاءاورش اعت کے
تماوردرخ تکوئز بیت واستتتقا مم تکا بای د نے رے۔
ا ن کا شری نت لٹ ر بڑاوا اورغی رمتپرل ہواکرتا تھاء اپنے من بی رشن سے عائل تھے
کی نے ضا نات دضازت می کزان تق ین چوس ارت بل رب
یش ہوں ہام می ہرچک یفن ےکی ز بان ایک ہو یی ۷ک چہ پیا نکی عز یت دولا ی تک دحل
ے رای بج ےان کے ناق نک یبھ یکھی را 1ر رت پوروروازو ںکی
38
لا می رہقی ہیں ک ری طر کام بن جا اورداسن داغ دارھی نوہ مرو خی مفتتان ز مانہ
کوضرورت واج ت کا سہارا لن ےکر ہرکام بناد ہی ےکا ہش رآ نے لگا سے ۔ ای وقت میں مل علیراور
اہجمائی مسمائل کےتذ کا پا رگراں انٹھالدنا خودخی دو رحاض رکا اد اکر ہے ا ںآ ززادگی کے وور
ھ07 ات ڑا ےآ زاوفضا وں یس ساس لیے وا قوم کےلو خی فلا ن ےک ررششٹف
خطباوداعان کے دا نکیشمصی وب ر کے دعبوں سے بانے کے لیے تۓے سے جو نے کچوڑے
شا وراعلی ححضرت سے مک خی می ںی ہوگئی ے, شا رمطتی تنم ہن رت کی نک کی سن
کے ہہوںء --0 کے ا الشرییبکوعر حاضر کے نقاضو ںکی خر شہ ہو یس شوج کھوڑے
جئے جس کی بفا یرتا رج الش برک ان قول ول سے ان مسا لکی تفاظت پرھز ید نجرد بی بڑگیء
ری سا وکا الفرام نف وقت تماءالن نا قد بین میس بد نتشد دی نگجھی تھے ہین کے
۳ کی 0ر رغاس اک 0ق ور رجح لاخ اھ ال علظاظر
انام تکاپہاڑ م نک ہابت ر سے جب ایگ اہیچھے لوگ جد بل تا ضوں کے دبا می ںآ گے تا
لیبن ش بجعت کے تفقاضسو لکود یھ" اوردوس ےنات رد یکین وکمری میں ڈال دہے۔
آج جب تا الش ریہ جارے درمیانکئیں “می ا نکی بادستاپی ہہ ان کے بحدرکون ہوگا
جوا سلاممان ہنی رای وی 0 کے را ا ای زیت کے
سماتھ دبا رعرب می ںچھی ھارکی عمزت ونا مو کا آشیانہ بنا ۓےگاء جن سکی منڈریی بجھاوں میں
لا ۓعر ببھیفلب وج ری سیر نئحسو ںکمرس مے۔
اح الشریع ہآ جہمارے درمیا نکیل یں بئان دہ اسسلامیان و رت بیج در ےک ر نے
ہیں ءدرجنوں تصاخف وھ اتی ء درجنو لع ری اردوتر ایم مسیلٹرول فاوکی ء ہٹراروں وعظظ دبیاناتء
اورااکھوں می بن ومتنومیلن ا نکی با دگا ر ہیں جامعۃ ال ضا کی کیک ال تمارٹیں بش رق یکس لاف
ا اج بی شری فک فی ماس ع رکز ی دارالا قآر یا شریف ان کے فو د برا تکا سر چشمہ
نکر امت سک کیم وشحرفت کے بپاڑے پاٹ و ہیں گے۔ اید لی ا نکی تر یت برجم تکی
ات مان
40
سے 2ں
ازتضورتا رج الشرد ہفحت اخ رضاہاں از ہیی علی ال رح دالرضموان
نفنر یم وتزتیب: فیضان امصطلظ تقادری
تضورجارج الش ریت علیر ارح والرضوان نے ین بار ام یل کا سخ رکیاء گی بار جوا فٌ ۱۹۹۹ء
می ایل سنت وجماعح تکی م رکز یی مس النو سور کے ذر بی ہنخر تکا دورہ ہواء جس کا اجخقام
مور کے امام نیب سنتیمح ضرا ان ا کت کت دوسری باریری ش مل ۰۰ء ہیں سفر
ہواءاورااس کے ا گنلے سمل ۳۰۰۱ء می ںتسرادورہبہواء ان اسفا ری ںالف شرو ں تصوص] ین ء
ڈ لال اور ےاگو کے دورے ہو ان موا پ ملف مقامات پ آپ کے بیانات ہہوئے ء
آپ نے م ونعت پڑ ہک رغخل عقیرءمسلرانو ںکومحفطوظا فر مایا تق میں ہوثی کاٹی لوک دائحل
سلسلہ ہو ۓ _
ہاش ام یمیس ہ سج بیس ہفتروار در ش رآن یا درس حد بی ثکا سلسلہر بتناے الٹو رر سچر
ٹس در سگھو با بح کومخرب کے بعد ہہوتا ےء یی سف میس ایک جح کوحطرت ماج الش رجہ نے
النور سد میں ش رآآن ئجیدکا درس دراء جن جات ات ےت روقت میں سور ءا شر 1 نر بیان
فرمائیءیوں کان ص2۰ یک ساس لے یفراورعا دہ خر ان نال ال
1سا نتخیی راورییس الوب مان یل چچن یھی کات ووا یا بھی1 گۓ. لا واقشن صررک
ان نماز کے بعد دھاکرنا ءکھانا موجودہوے یی ےکھانا لغم زکہوں؟ مرف ہکا اعاد و کے فا3
سے لف مپوم رتا سے کلام موج بکا عطف کلام خی رموجب س رکیے ہوا؟ 72 ۵۔
رت رت الاو شر لیف ۳۳ا مطا لق ۹جو لا یی ۹۹۹اء بروز جعہ بعرضما زمضرب الور
مود جیویشن میس ہوئی محتی مدق ران صاحب نے ام ںتخسی رکوکیٹ می سٹو اکرلرا تہ رام
41
وف نے موصوف ےگیسٹ ن ےگرحطر تک یق رین وش ناف لکیاء رفا ۃ عام کے لیے
ا لکوترتیب د ےک رفا ری نکی بارگاہ میں نہ رک رن ےکی سعادت حاص لکرر اے۔
لم نَشْرٌخ لک صَذرک, وَوَضَعْتا غَنک وژرک الَذِي أَنَقَض ھَهُرک,
َرَفَعَا لک وگ٥ رک فَان مَع الغْْرٍ یُسرآء اِّ مَع العْسْرٍ یُسْراء
اذ فرَغُتَ فَانصَبُء وَالی رَبَک فَارْعَبْ. رصَدق اللَه الیم
بیسور ہا شرع شر بی کی ےم لت یتضورس ور عال لی اتا رک وتھالی علیہ ول مکی ارت
سے لے نازل ہوی سے اوراجثرت سے لے جوسورٹیں نازل ہومیں ا نکومفس ری نکی اصطلاح
شک یکہاجا تا ہے عام از یکرددمکہمیش نازل ہہوئی ہوں پاکیں اور جاک ححضرت امام جلال
الدین سہیوڑٹی رتمنۃ اللہ تھالی علبیہ نے اپٹ یناب ستطاب الانقان ثی علوم التقرآن میں اس
اصطلا کی نر فر مالی۔اس میس یک کو سے ستتا نجوس کے ہیں اورایک سوقی نف ہیں۔
اتارک وتقا لی نے تضمورس ور ال رسکی ارارک وتالی علیہ وسلم پر جوا تسانا تفر مانۓے
ان میں سب سے شیم اما نحتضمورعلی لصا نے والسلا ماش رح در ہے۔الڈدتارک وتعای اپنادہ
اصمائن س کا رک ار ہا اورا لحم ت شارفر مار ہاے۔فرماتا ےک کیا بھم نےتھہارے یہار
سن کھول دا؟ نو تضورعاے الصز ےوامساا م کا سیننۃ مارک نظاہ رک اورمتنوبی دونو ںطور رکشماد ہکیا
گیا۔ اک یقرت نے ت جو کا رک ہم نے تھارے ےہار سینشادہ کرد یرش لم اہی
معارفر ہاشیرادرتق ای رجماعیہ کے لے چم ن ےپ کے ہیی نےکوکشاد کر دیاءاییا کہ ج تہ وگیاء
ج یھ ہور ہا سے اور جو بک ہونے والا سے وو سار ےعلوم ومعارف اور اس کے علادہ اللہ تچارک
وعال یکی ذات وصفات کے علومء اکلوں کے علوم ؛چپھلوں کے علومء سسارے معارف اور سمارا
غیب عا خیب وشہادۃ کے اموراس سی ےکی وسمت میں سما گن حضورسرور ما سی اتارک
42
وتعاہی علیہ وع مکا اہ ری طور بربھی سیین کشا د ہک یا کیا انشرح صدر(ہتقی )سن مبا رک کو چا ککیاگیا
*اور پار الب مبار ککودھو گیا اوراس می عم وحکمت کےنز ا کوک ایا۔
رت سینا الو ہر و شی ای دتپارک ونتھالکی عحنرے راوکی رواب تکر تے ہیں ٤وہ سککتے ہیں
کم سیدنا الو ہر درشی اد تارک وتتحا لی ح یتور سے سوا لکر نے کے معا لے میں جرىی ھے تی
مو رعلیالصدا ة والسلام سے ب پیک سوا لکرل ار تے تھے اوران کے سوالا تکا ہا نام سے
اورا یکا اسان ےک تضور علیہ الصڑا والسلام کے علوم ومحار فکاگنریہ حد یو لکیشکل میں
پچھیلا ہوا ےء بخاری لم ویر ہکابوں 0۳ روائتژیں حخرت سیدنا الوہررہ ری الد
ارک وتعالی ععنہ سے ہیں نو انھوں نے و اک تضمور! مکے بہ بنا ےک ہآ پکی نوت کے
معا ےکی ابنارا یی ہوثی ؟ نے سرک راج فیک سے ہی گے ءاورفرمایا:اے اوہ سرد ام نے کو جھھ
تی لیا 3بس بتاتا ہو ںکہ) بیس دس سال اور ینہ مین کا خلا نو خی رتھاء خلا مکا مع بیہاں ددممت
7 باندکی اور فلام بولا جانا ےء بلہ خلام ع یکا لفظط سے مڑنی بیس بی تھاء نا با لٹڑکا
تھافرماتے ہی ںک میس ہلل میں تھا نوس نے ابنے سرکے او یلا مکوسٹاء اور ٹیل نے دبیک ھا
کٹ دسرے س ےکھد ہا بجی ہیں دہہ بی ہیں دہء او پھردہدیول مہرے سان ےآ
ریو 9ف ا رر ا ا وت لس الہ
ان کے سن نکو حا کفک روہ نو کے یی 2 ا روبرود یک ھا کہ اکھوں نے میرے ہے
کو چا ککیاءشکوکی خون ھا نکی دردہواءاوراز ای بیعت کے خقتا ےن ور جوہوتا سے
وہ میرے نے سے کال دباء اور تچ رمیرے سی ےکورافت اور رححت سے بھردیاء اور اس کے
بعدرایھوں ن ےہاک آپ سلائتی کے سا تج ا ےگھ رکولوٹ جا ہیں ۔نذفرماتے ہی ںکہی۲ سکچھوٹوں
کے لیے رقت اورمد بی اور بڑوں کے لیے رحمت ےرات ےگ رکولوٹا۔
تضوراؤ رس علیالصلا ت والسا ما شرب صدریبہ اک عد یٹ سےمعلوم ہوا آپ کے مین
یں ہوا۔ پچ رج بآپ کی رف وگ یآن رو ہوٹی ال سکی ابن می ہواء او رتیسریی رت شر
صدرج بآ پکوشعم راع کے لیے نے جاراگیا انس سے بیس ہوا۔
43
تلہم جدہے: ”کیا ہم نے تہارے ےہا را سید چڑا کردا فارمتخہام
ری معلوم ہوا سے بین نی لے پرداٹل ہواےءاورٹ یکاغی ابا تکافائتدود 0-0
فرما نکا مفادادراصمل بی ےک : م نےتمہارے ہراس ہکشاد دکردیا ۔ائی ے1 کے
خط فکیاجار باے ووَضْعْنَاغھنک وژرک (الَذِي أنْقَض ظََھُرک“ مز تا
خط فکیاجار با ہے ”الھنشر بح“ کے اویہ: اور من ےآپ کےاو پر ےآ پکاد٤ بد دا تا رلیاجس
ےآ پک پیٹ ڑکیا رای تک ید قظاببات بل سے سے ادراس بوچھ سکیا مرا ے؟
بن لوگوں ن ےہاک دوگ مراد ے جوتضمو رسکی ال ارک وتاٹی علیہ وم مکوکفارکی طرف سے
لاق ہہوتا تما ئن کنازائما نی ات تے و تضو رک لی دیگئی ۔اورینن لوگوں ن کہا :ا سکم
سے مرادام تکافھمٰے جوتضورعلی الص لا و والسلام انی امت کے معا لے می ںگکرمند رج تھے
کین رج تے. کی د یک یک ہآ پکوالل ارک دتالی ا معمود بر جس ےا آپ ملصب
شفاععت پر فائزفرما ےگا ءآ پکی شفاععت تجول ف رما ۓگاء او رآ پک شفاعت ےآپ کے
کرت رای ام مے ناد اکپ 6و ا اور وو ان خاوں 109 عم
تخاببات میں سے ہے اورا کا دیع ےجو لِیغفر لک الله مَا تقَدُم مِنْ ذُنک
ما دشر“( کاسے)سور ہین جوالل تھالی نے ف رما اکم نےتمہارے کی رشن رح ری
ری رک گرا لا اف کا وڈا طوں' وو اون تھے
اب بہال فرماباجار ہا ےل( وَرَفعنا لک ذگھرک ): ہم نےتہارے لیتہارے
ذکرکو ہل رکردیا کے بلنرکردہا؟ جفرت سرور حا لی اتارک وتالی علیہ یلم نے ج رم این
( علیہ الصڑا ج والسلام )سے و چھاء ضضرت علامہ امام تقاضصی عیائض ری الہ تقاہی عنہ نے اس
۶ سس کےطور برروابی تکیا سے ون ال تھا لی علیہ لم خوداپنے ر بکرم سے
رواب تر تے ہیں مکہدر بکرم نے ارشافرایا:”ضَذري كَیْفَ رَفَعْتُ لک ذکرک
“ینم جا ہوکہ ٹل نے تہارے لی یتہارے کرک وکیسے بلن دکیا؟ نو حضور نے عوت کی : یخیر
تیرے با می ںکیاجالوں؟ ارشادہواء ججعَلنک ذِ گرا مُنْ ذِكري فَمَنْ دُ کرک فَقَد
44
سرن“ میں نے تیرے ذکرکوا پناذکر بفالیا نو شس نے ترک ادکی اس نے میرک یادکی ۔نذ دنا
ٹیس اورآخرت میں الد تحالی نے س رکا ر کے ک کو بلن دکیاء چنا نیما زی ماز کےکش ہد میس سرک روا
کےساتھ بادکمتاے'”اشْهَذ ان لا اِلة ال اللہ وَأمْهَدُ ا مُحَمَدا عَبْدَه وَرَسُوْلَه“
اذان یش( مو ن؟تاے:)”شْهَذ ان لا اه الا الله وَأَهْهَدُ ا مُحَمَدا رَسُولُ الله“
او رم یے می ں بھی اید تارک ونقالی کے ذکر کے سا تس رکا رکا ذکرہوتا ے٤ اورش رآن میں چا چا اد
تمالی نے اپنے ذکر کےساتححرسو ل کا ڈکرفر مایا ہے۔ بللہائ سرب فرایا ”هو الّذِي أُزْمَل
اف کے بالَّھُدیٰ وَدِیْن 4 ی“ لیلد تھا ی نے ای ان ذک ملف اک رتا ےک خداددے
شس نے اپ رسو لکوکھیچاے ہدابیت کے سسات تو اتال یکا ذک رتضمو رسکی علیہ یلم کے کر
2.200072 لا اللہ الا ا شھررسول ال “نو جب ال تارک دتعا ی
کی بادہوگی مورک یادہوگیء اور ج بتضمورکی یادہوگی فو انڈدتارک ونعال یک باد ہوگی۔ائی سے
معلوم ہوا تو ری ارڈرتپارک ونعا یکا ذک جمزوایمان ہے۔ایما نکی میق ت تضور کے ؤذکر کے
تق دینئیس ہدک ہے ماہیت پائی ینوس جا ۓےکی ۔کوئ ین عبادت ٹیل مصروف ر ہے
ایارک وتھال یی تمد ل نکر ےء اور اتارک وا یکو ماضا ہو نان رسول ارڈیکی ارڈ ارک
وتالی علیہ وع مکوئیں ماضناء اور نکی تل یی ںکرتا رو ا ا وت یں وہ
کافرپی رےےگا۔ اس کوک زہادہ یی چوڑ یق کر کی ضرور تی ہے( بلہ کم لا اللہ
الا اش رسول ال“ خوداس برگواہ ے_
رذ مایا ”نف مع اضر یضرا ِئ مع اسر یضرا “عو ری اتارک وتھالی
علیہ و مکوع بای ےا ےر تر تمالا وی نے کے کے الد
تال ار شاوف ار اے:( آ پک رانمی یں ) کک دشوارکی کے سات آ سای ےہ یک دشواری
کےسا تھسا ی ے ۔تخمورسرورعا : ىا اشعلی دم سے رک رر رنے ارشادش نایا
کہ ایک دشواری دو سمانی بر ال نی ںآسحت۔ اور بیہاں اتارک وتعالی نے د1 سا ئوں اور
ایک دشواری یکا ذک کیا ے دہ کیے؟مفس ری نکرامفر مات ہیں :”نع الم“ ”الف لام “کے
45
مات ”سے اور جب ”الف ام کے ساتت سیک ہکا اعادہکیاجاے فذ دوہ بح اول و یکلہ
ہوناےءاوراس میں نویس ہوتاء اور ج بگر وکا اعاد ہکیاجاۓے نے تعددہو جا تا ےءلو ”ان مےع
انث سر ا“ ذبحینہ وی دشواری ج پپیلے تھے می ںاھی ددی دشواری مرادےء اور سے جم میس
مر“ ےاوردوسرے جھل می ں بھی ”نیس“ ےل وگرہکاجب اعادہکیاجاے ار بار وہ
کر ددوسراے اور پیگرہ دوس راے و مطلب یہہ واکہ ہردشوارکیٰ کے سا تقھ اتارک وتعالیٰ نے
دوآسانیاں رگھی ہیں حخضورعلی الصلا والسلام سے مردی ےکہس رکا ایک پچھ کے سا نے ٹیش
ہو تھے ءآپ نے بھی طرف اشار کر کے فر مالک ہار اس پٹھ بیس دشوارکی بنلد ہوجاے ء
میتی اس میں داخل ہوجا ےو آسمای اس ٹر ہے گی اوراس (دشواریی )را ابآ جاۓ 7>
عدبیث یس ریگ یآ نا ےکہ اتارک وتعا کی امداداورمعوشت بقز رکفت نازل ہوٹی ے اور
صبرمصیلب تکی مق رارنا زل وت سے ۔حضرت امام شالقی زی اتارک وتعالی عش سے شعرم وی
ےن انھوں نے فرمایا:
صَبْرا جَمِيیْلامَا اقُرب الْفرُجَا مَنْ رَاقبَ اللَهَ فی أُمُورہ نجَا
وَمَنْ صَدق الللمَْتَلَه آدیٰ وَمَیْرَجَه يَكُوْنْ عَیْث رََا
( ترجہ )کری رم لکروء اتارک وتھال یک مددقرجب ےء اور جو ات ےکا موں بی اللہ
تجارک وتھالی نظ ررکتا سے دوضجا تکو پا ہے ء اور جوالل تھالی پرکال لقن رکتا سےا سکوبھی
نکی ہی ں تی اور جوارڈد سے امیر رکتا سے اتارک وتعال یکو و ہیں ات ےگا جہاں دہ ا سکی
امیدرگتاے۔
اس کے بحدفرماا:” فا2ا فرَغت فائصبْ “جب تم(نماز سے )فار ہوجا4( 2
دعا یں عحن تکروہ ای کول نے ہے اور ایک ٹول مٹیا ےک جبکم دنیا ک ےکا موں سے فا رج
ہو جا نو ماز میس( عبادت میں ) محن تکرو۔ بیہاں سےمعلوم ہواکہ بندہج پ نما ڑکا ارادہ سے
قو اس وفت ال ںکوفا رخ الپال ہہونا جا ہیے اور ا٣ کا ول اتارک وتعا ٰکی طرف پا ال مرک
ہنا جا ییےء اور رقبت کے ساتجھ عباد کر ے یہ بظاہ رتضوری٥کی اتارک وتا لی علیہ وسل مک وکہا
46
گیاے مان پیجلیعم مضورکی امت (کے لیے ) سے بکڑیں سے معلوم ہوا کہ ہمار ی7 ساٹی کے
لی ےحضسورعلیرالصلا نے والسلامم نے فر ما کہ ج بکھانا حاض رہ وق اس وت نماز نہ پڑ ھے اور جب
آد لکو پاب پاخان ےکی عاجت ہہواس وت نماز شہ پڑ ھکیو ں؟ اس لی کال کا دصیان
اس یل من ہہک ہوگاءا ورڈ ارک وتعال یی عبادت اس ططر حک کی جا ہہ ےکآ دی علالی و نے
الیل فاررغ ہو ہاو ایدارک ونا یی رف دعیان لاک کے ا کیا عیادت ے ابنول۔
ہے او رین لوگول نے کہا :جب تم نماز بیس ہونو اتی عاجج تکی رف نوج رک روہ مق اتارک
تھی سے اہی حاجت عو لکروء مجن یماز کےآ خر میں ایدارک ولا لی سے دع اکمرو۔ او ربج
لوگوں ن کہ اکہ جب نماز سے فار رح ہو جا اورقم ٹیش ہو ارڈ تپارک وتھالی سے واراراں
سے معلوم ہوا نما ز کے خر میں اورعپادت و وہ یعاد بیج ق رآ نک یلیم
ے٤ او رعد بہث میں آیا' الدعاء مخ العبادة "'دعا عیادت کا مخفزے_
اتارک ونا لی ارشادف مار اے“” وَالی ربکت رف ارُغب اوراپٹنے رب پیکی
رف رحب تکمروہ مت اپ ا برگھروساکردہ ایک کول بھی ےکہ ہمادے جب فارر ہو
اتارک ونتعا یکی عیادت میں رخبت کے ساتورہو- وآخر دعوانا أن الحمد للَه اب
07 ِّ
تاج الش رییہکی حا شیہلگاری
عاشی بخارکی سے چنارہونے:
جا الش ریہ نے بخاری شریف کے ند ابواب بر جوا ت رفا ہیںء بی حاشیمس
ہکات مبارک پور سے شض ہونے وانے باریی شریف کے مم ے کےسراتق ڈیہ کے طور بر شال
ہے۔ '' تحلبیقات زاہرہ "کے نام سے می حا شیب پاری شریف کے بڑے سرائمز صصفحیات رلقرم
و ےسفحیات پرچھیاا ہواےء کےا لگ سے تعلرقات الاز ہرییعی پا ری“ کے نام ےبھی
شائ جک ایا ج440 صخیات رشتضمل ہے اس سے چنزمونے ور خکمرتا ہوں۔
47
تموراخمیایرمساجد بزانے والوں برلنتکا سبب :
ام فارکینے جج بفار کاب الت لا میس یک باب قائ مکیا: باب ھل ینبش قبور
مش رکي الجاھلیة ویتخذ مکانھا مساجد لقول النبي صلی الله عليه وسلم لعن
الله الیھود اتخذوا قبور انبیائھم مساجد“
راس ماس می کرشم ا ا ا کا کاب میس ایک ہر
209 ججج.ے.0. سے استم لال سے تام ہہوگا ؟ جاج اش رجف مات ہی ںک اس
حدبیث ٹیل انان ۓکرا مکی تو رکوڈما زکی مہ کےطور پراخقیارکرنے پل کنا کیانکیاے من
یس صالی نکی قی ری بھی حعا واشل ہیں .امش ری نکی ق یت کران پر مساجد ہنامیں تو صرح
یں ےا رت اجییی سہارن اورک لی ےکر مائی اور اکباری کے کے در کیا :
اس پرتا نج الش ریہ کے عا شی نے ایک افادہ یکاہ یبود یی نکی وت قجو رانا کی عد سے زیادہ
یی ب تو ران کی نوم نبھی ہوکتی ے۔ چناخیراس مقام پ تارج الش ری نے جو پھوککھا
ہے او اما ہے
ببوداپنن امیا گی قرو لکوحبد وگاہ بناتے تے اوران پرمساجد بناتے تےء بیکام ما تو ا نکی
07ل وی 0ا ےہ و وا مم
کرت تےء با قرو ںکی فو بین اوراتختذاف کےسب ب تھ اکا نقیروں پ ری مسج رسس بنا لی ےک بجر
اس پر اٹھنا یٹنا چلنا پچ نکرتے جوابانت سے ببود برلصن تکا سبب پا نذ غیرشرتی عنم سے یا
قبرو ںکی نے ین ےءاورحدیث دوٹول معن ںکااشال تی ہے۔اس مقام برامام بای ن عم
کوقبوراخمیا تی رس کے سا تق اح کیا ہے کا مفاد یپاک برائس وفت ح سے جب سج رعین
تج رکے او یر ہوک ہبی ابان تکا مو جب سے اورقو رصان کی نذ بی نمنوغ سے ری مت کین 7
قب میں تو ھی ں اکھا یکن می لکوئی رخ کی نہ حدیث دوڈوں معنو ںکااشال تی ےاپزا
بی ان سکواس باب کےجت رھت ہیں : باب ما کر بن اتا الم دی الشبو راودیجھی اس باب
کےجت :”ہاب ہنا ایی الق ر“( حا یی الا رکی او لف“ ےئاس بات مبارک اور )
48
حضموراقوریس سی اور علیہ مکی نماز کے مقامات:
امام ہا کین ےکتاب الصلا می ایک باب قا مکیاے :ساب المساجد التي في
0 ءء8ه× 0 9ر
اس باب می امام با ری نے ححضر تعبدر اینب نگم نشی اتال یکنا کی دو ردامی تج
کی ہیں چکگ مہادر مد ید منودہ کے رات می ان قھام متقاما تکی نشان دن یک رکی ہیں جہاں
توا تریس یا ا کے دوران سر زا زاداخر ایا یکا ای ہین سان
یں یکن امام ایی کا ان تام رواتو ںکیکن گن بادرکنا اور وی ایام کے راتا ن٣ل
کرنااس با تکی دیل ےکرانھیاتۓگرام کےا ا راوس اہمیت نصقی ہیں ءاورضرتبد ار
من عم رصی اید تا یعنما کا ضورا ریس صلی اویل علیے ےلم ھ2
تین اورمختقد بین کے ل کا ہوادرں ےک ہآ ٹا رمقرسہ کے ساتھ ہھارابرتا کیساہونا جیا ہے نر
یہاں بر حخرتعمرفاروقی رص اتا لی عنہ کے تلق ایک روایت و ہاجیو کی ہبی دییل سے جس
یس ےکماھوں نے عد ید کے مقظام پرایک درخ تکٹو اد یا تھاجٹس کے پامس لوگ بی پچ وکر جاتے
ےک تحفورا رسس الڈرعل یلم نے ای کے پیئے تی رضسوان لی ءا کی ایک لو جی ناما ۓے
کرام نے پگی ےک تفر تگرری ا عنرنے ایال لی کیا کہ لوک اس مقام ببنماز بڑھنا
واجبپ ولازم :کنیلک اورجھ ز واج ہیں أے واج بنا بھی ش ری نقاضوں کےغلاف
ےء دوس ری نو جیہ یک اگ یکہاصل میں دددرختجشس کے سے ہیعت ہہوئ یی وہنا تب بویا اور
کے مالسا .جا شیوشت پیا وہ سے مر سن گر
ت ال دتھالی عنہ تم ےکنوادیا کی کو مایا طور رتضو کی ایل علیہ وع مکی طرف موب نہ
کیاجاۓ۔ححخرت ماج اش لج علیہ الرحمہ نے ال باب پہ ج حاشیہ لگایا سے اس یل ببہت
سارے امو ر کے سا تاس با تکی وضاح تک ےک گر جھاری ذ جیرقبول نکی جاے وفتل عم
فعلِ این عھرے منوارنش ہوا نشی اڈٗنما ءک اگ رطر تعمررشی ادڈ رنہ نے دہ درخت اس لیے
کٹواد اک ہآ رانا یکوئی اہی ت یں ےو حضرت ابی ن عرش ادا حضوریی اون علیہ لم
49
کے ممقامامتیہمازکی مین یس اس درا ہما مکیو ںکرر سے ہیں ؟ پچ راس اش عم ری الد حنہ پریھا ہہ
وتا تی نکیاشل جار یر بتقاء بلہراس کےخلاف پیل ہوتا سے جب حرت عم بن عبدالھ زہ:
نشی اش ع دن کرک کے ان مقامات پچ نی رک راتے جس ہا ں بھی بھی تضوراق زی مل اللہ
علیہ یلم نےنما زاداکی ہوءاورای کیل جاریی ہوجا تا ے۔ بیع عمرخودقو لعھرےبھی منتارنش
ہوا ءرشی اللدعنہ۔ دہ یو ںک دع فاروقی ری اد تھی عشرنے بارگا و رساات می شع لکیای:
رح نے٢ براھیم مصلى “یم ماما برا ڈی مکوفما کی کہ بنا یت سس رایت
۲ت َاَخْلُوْامِنْ مَقَام إبْرَاهیْم مُصلی صا زرل موی و نا یتم ا اک جس
نے حضوراقیم٥لی او تی عل 7 سے درخواس تک کہ ایک ن یکی طرف جو موب سے
اس مقاام پرمما زاداکی جاۓ ود یآخ رکیوں سال رن علی لصا والسماا مکی طرفے موب بلہ ہ
مازیڑ نے ےش حکر یں گے؟ ج بکائس دوابی تکا ناش تحخرت نتباان بن ما نک ری اڈ عنہ
کی اس روابیت بھی سے جس میں اھوں نے سرکاراقرس مکی اش علیہ سم کم ان لک یمک
یس ڈگا ہک یکنروری ادرتار بی کےسب ب مسچ نہیں جاسکنا فذ تو رک ری رنمانز یڑ دب کہ یں ای
کو اتی نما زی خہ بنالوں ء جس تضوراقیں صلی ال علیہ ویلم نے ان ٣. مس فتظور
فرمائیء ان قام روایتو ںکونظ اندازکر کے اگراس روای تکوک یضر تگھررشی ایر عنہا یی متقام
رما زکونا پندکرتے تھے من ہشن لے لیا جا فان رئیج روایجوں اورخوداپۓ ثول ے
نتارض تال فک الثرام د ینا لاز مآ کا تصوص] ج بک اسلا ف کال بھی ا رواٹ کے
غلاف >ٍہو- ( متا ھا ش یی الا ری ف٦ ےمطبو کس برکیات مارک اور )
جانعت کے وشت سنت رکا مل
امام بفارکی ن کاب الصلا ق می ہہ باب قائمکیا:باب اذا اقیمت الصلاة فلا صلاة
الا المکتوبة. شی جب اقاممت ہونوفرن ش نماز کے سواکوی نما زکیں_
ال حد بیتث پا ککوچہورات ات گموم پر رسک ہوئے انقاصت ش رو ہوچا نے نف راز
کے علاوہ ما زی اجاز ت کیل دینئے ہین احناف اس سللے بی سنت جج رکواس ک موم سے
50
2 2 ارۓ نول یی ووروایل ہیں مین میں نے تحضر تعپ راد ین مسعود
اض رہف رن فو و ا ۶ے 6 تو تعن غارب
اداکیءاوراہی انھوں نے حخرت حا ینہ وححضرت ابوالدرداء ونخرت اب عپاس دیشی ال تج کی
موجودگی ٹم سکیا۔(ذکر و این بطال فی شر الفارییاشن العھا دکی )او رضحطر تعبداانرب نع شی
ایڈنا گھمرسے لکن نو اگ رنج کی اعقامت ہولی فو دورکعت سنت چ رب وک سور میں ال ہہوتے
چرلوکوں کے سا تما ز ٹج ا اکر تے درانھا لیک ا نکوا ظا مت صلا الم ہوتا۔
اتقاذکرکر نے کے بعدتا نج الش ریف ماتے ہی ںک اس سےمعلوم ہواک انمت ہوج ب بھی
سشت ٹچ ر ڑھفی ہوگی ءاورال کی تا نی ری ایک ه وع رایت ٹین کی :
اذا اقیمت للصلادۃ فلا صلاة الا المکتوبة الا رکعتی الفجر . أخرجہ
البیھقی عن أبي موق
اما ,لی نے اس روایت کےآخرکی شلرا تکی ندب رکلا مکیا ےگگرعلام ہنی نے ا کا
واب دید یاے۔ ال مقام پر ایک اعتزاض ہودنا ےکہ باری ریف میس ٹچ ر کے علق ےم
تضورا ی٥ی اوڈعلیہ یلم نے اعقامت صلا کے بحد ای کٹ سکواپنی راز ہڑ ھت د یھ قوذ سام
رن کے بحداس سے فرمایا ہکیا رجا ررکعت ےکیا لج رچاررکعت ہے؟ ال لک جواب ىہ سے
پر سر سو ا ا مو کی و ھا
مازیڑہورے تے جولوگوں کیل لک ہا ع نیتیء ریا مال ی6 جواب تھا تاج اش رجہ نے اس
مقام رط وی علی الرائی لے ا سےآاھا کال عحد بہثٹ میں افقامت سے ھرادموڈ نکی
اقاممت سے ماما مک نم زکوشروں اکرنا۔اورینس روایت می ںتضموریسلی علیہ ےل مکی طرف سے
اس پرمواغز ہکا ذکر سے اس میں ا امت سے مرادما زکا آ از سے سخلاصہ رکشت پافل بڑھنا
موذ نکی انقامت سے پیلے درست ہے مون اعقاممت شر کرد ےپ نہ بڑ جھےگمرسشت نج
بللہجھارے ات ملا ش کے نز یک نے نت را قامت کے بح درچھی مہ سکما ے اگ راس انراز و سے
تفر کی جماععتمل جات ۓگ اکر چرقعدہاختیر میس ۔اورسنت ٹج رکی یہاں تصوصیت اس لیے
51
ےک عدییت شریف میس ان لک بڑکی فقیل تآکی ہے۔ اور اسے دتیا وماپیہا سے بہت رقرار
د اگیاہے۔ ہال ای حاات میس سنت مج سد سے باہریامسججھ یش جماععت سے دورہہ ٹک رانک
ادا رے۔
اس تا ں اث رلصیفرماۓ ہیں:وقول الطحاوي قد ظھر أن المراد بالاقامة هنا
اقسامة السوذن ۔ رٹل اس سے ما نی ںان دوٰوں سے عا می مرادہوہ جا تما مت
موذن؟ اور نشج رو ال ماع“ دونو ںکوشائل ہو۔ ہہ دوفو لمع یکوعام ہہونا اہ رے کیو ںکرشس
رب موؤ نکی انقامت یب اقامرد الصسلا ج““ کا اطلائی ہوت ے اور ہک ی سی مبادر ہہونا سے ء ای
مرح امام کےنما زش رو ںحکمرنے کی ا تقا تہ الا “ےک اطلاں ہوتا ہے یسا کا رآآن یا ککا
ارثارگے]) آفِْکن را الصٌلودۂ“ ۔اورعد بیث پاک سے ثابت ےک صا کرام سنت ٹج رپہ
راوص تک تے تے یہاں م کک اما مرا زشرو کرد ےس وق تجھیء اورجنس روابیت ٹیل نی
رسکی اود علیہ یلم کےگی رکا کر سے اس سک یکئی یں ہیستی ہیں ۔اورا ما قابقی کا ”لان انج ر
““ کے یل پیکہن کرام سکی اص کہیںء بیاصل میں سندب رام ےج س کا جو اب علا جن نے دیا
ورنہائس ا تھا کا ڑکا رک ےکر کت ہیں ج ھا ہہ کےکمل سے ثابت ے۔
(تحلیقا ت از ہربیلی الفاری او لم ۸۰)
6ر ا مم ہج مل :
امام ہنخاریی تن ےکتاب الصلا میس یہ باب ا مکیا:با ب الذ کر بعد الصلاۃ
ات باب یش امام ارک نے ایک عدبیث روابی تکیا ےک خر تد الب نپعپاس شی
ال نما بیانک/رتے ہیں یف مماز کے بعد جری ذک رتضموراقررس مکی ارڈعلی ےلم کے حر میں تھا
اس پ تاج الش رین حاشییہلکاباادراس عد بی کشر می ففرماتے ہیں :امن بطال نے
کی اک ہف ں نماز کے بحد بلن رآواز سے ڈک کنا عب را ہیس نز تھا اور اسلاف سے منقو لکبیںء
لے عادثٹ سے ۔ ج بکحافظط اب ن مجر نے 2 الباری تح تن ور رک ور
52
روایجوں کے انے سے چجر پا ذک کی اتکی سے۔اس پ تاج اش رب راقو لکہرکرفرماتے ہہیں:
امام جلالل الدین سییوٹی نے اہن رسا مہ لفک فی اھر اذکر شس می دوایت بخاری
لف لک کے جج اکر برامتدلا لکیاے۔ا کا برا تن لال دییل ےک اھوںل نے انس حد بی کا
یی مھا ےک ھا برک را مع+پدرسالت ٹیل ذکر ہاج کر تے تےء اور برائن بطال کے مو کی
تردبد ے۔ بلمہامام اتمدرضا نے س مکی روابیت کے جوا نے ےکک اک یناز کے بح لا الال الہ
ان رآواز ےکہنا عد حیث سے غابت سے جس سےمعلوم ہو اہج بال کر سب سے اود اا سکی
7 0 دی یں بجر ا پگ کے تر
کاارشادے:اڈٹھوا رکم تضوعا وَحفيَة “ایس تضرعا وحفیة“ کامعئ در راور
مع ھمالنقز بل میں عصلانیة وسر ا کیاے۔آ خرمیں تاج اش رلیدنے ایک شمبورحد جیث سے اس
پراستدلا لکیا ہے جم سکوامام بخنارکی نے حضرت ابو ہریرہ ری الشدعنکی ردایت ےت رت کیا
ے۔
تضوراق ری صلی ا علیہ لف مات ہیں“
یقول الله انا عندظن عبدي ہی وانا معه اذا ذکرنی فاذا ذکرني فی نفسه
ذکرته فی نفسي وان ذکرنی فی ملا ذکرته فی ملا خحیرمنہ“
۶-22 را می ما ےر و فا ا یں نا ار وپ
ممما نکرتا ےء اور ٹیل اس کے ساتھ ہوت جہوں جب سے با دکرتا کے ا بے ان دل میں
ادکرتا ے نے می بھی اکیلا اسے با دکرتابہوںل ء اور جب دہ کے جماععت میں بادکرتا ےو یں اسے
اس سے ہت جماععت یی بادکرتا ہول“۔اورظاہر ےگ میں ذکر بلندواز سے بی ہوگا۔
ٌ نے ششحب الا مان یس حظطرت او سید در یی روا یت 27 ےک تضصمور
اف یں مکی او علی لم نے فر ایا ال کا کرک ت س ےکر وک لوک ال ککیں۔
تارق ت از ہرکیپعلی الناریی اول٥۸۱)
93
اسر متتند پنظر 0- سے
تاج الشرییہ ن ےم ملا مکی مشہو راب 'المتتد اممشقر“'اوراس برای حضرت کے حاشیہ
”نامعن ۷“ کا اردوٹر ج کیا کہ اردددال ط شی اس ے فا مد ہ اٹھا کے _ تر ج کر تے
ہوۓ چہاں ضرورت سو کی دہاں حاش یگ لگاباء جواشی بت جیضشق ہیں ءنئیں ایک دولفظا
کر کر با تکو دا کا اگ ا لا ا اش رت ریف ایہم
اسے پیا لف لکرنا مناسب کت ہیں -
اصل میں مکلا مکا ایس کل متلہ سے مک نیو ںکوکھیونا الیل دتعالیٰ پر واجب ے یا مال
سے پائمکن؟ راہ سکتے ہی ںکہعحال فلاسفراو تل کے نز دیک واجب سے اور ایل سشت
کےئز دی کمکن اوررب تا کال اخختیاریی سے ]شی الل تھا یجن اہ ٹل وکرم سے اخمیاتۓ
گرا موم بحوتث ف رما تاےء ورقہاس پر ید واج بکیں ۔ مت لہ نے ای اس اصسل فاسمدکی بیاد ہ
بت رکل واج ب ٹراردیا کہاان کے نز د یک اللدتالی برا واجب سے اس مقام یڑ ”مق“
کے مصیف عاا رفخ١ل سد یں ما رت ےج ا ا سے ا کے
مصنف الو الہ کات علا مر رای کا ول ان کہا نمیا گرا مکویھیچنا خ ری دن ہہو نے
اورڈرسناتے ہو جیٹرامکان می سے بلک جو جوب میں ے اور ظا ہ رر ےکا کا تتخلف عحال
ے۔ اتی 5٤ 9۹/ص 0
کی را کا امتزاع۔
اس مقام پراعلی عطززت ن مع حاشی :لابا اود وا کیا علا ہی اس الزام سے ری
ہیں۔اوراس کے بحعرالن کےقو لکی و چیہ یی یکی ہے۔ بی حا شی رامام ام رضا فن سس الب کی
این می لک ربی تکا مھ اولنا ثھوت ے۔
لی حضرت نے جھ پچجولھا اس کے ابنتراگی ج ےکا خلا صہ یھ ایوں ےک ای تھی سے اس
کےافعال کےصدور بیں لوگو ںکا اختلاف ے فلا سفراہیجاب اورسلب انار کےمقائل ہیں اگ
چروہلفط قد ر تک فی نی سکرت ےلین قد ر تک فی ریو ںکرتے ہی ںک' ”اکر جاے کرے اور
54
نر جا ے و نکر ے ء اور ہی دوٹوں شرط تق صادق ہیں ء عام از ی ںیک مقدم داجب ہو با عحال
ار)۔
شی ضر تکی بہ پو ری بث مڑئی مشکل تین بت سے اس لیے اس متام برای ضرت
کےاسس حاشیکی ای بک کول بنانے کے لیا ج اش نے اس رحاش یس مرف مایا ءا ولا اش
حطر تک عہارت کے ایک جت کی نچ کی شس میں ای حضرت نے مق مکوواجب اوریمال دو
ی حیدددڈریاپ اشک ن کا ال وکز نکیا ا لک یکیاوجہ ے؟ء اس کے بعد پووری بج ٹک کیل
فرمائیء چناغستا نج الش یی ریف مات ہیں:
گار ا کہ یہاں ارک اضال ٹلا سے جات ہو نے کا کسی تا اع میں شہ
اک عام از ی یک واجب ہو یا جات ہو یا محال؟ء جواب ال ںکا بر کسی جب اللہ ارک
ونراکی ا فا ایا لا ججاب ہونے کے فان ون کاو رانھوں نے کس موی ضا کی
رف سے ہے اورائ کی ذا تکاکمال اس کے افعا لکا می سے اوران افعال ک ےل فکا
مناٹی ے, نواس سے صافطوررمعلوم ہواکیتل ری تعالی خقتاۓ ذات سے اور ذات باری
ای یا ایا نان اہ لوان مے وب اب کی تی حا یا ای
قدرت اورسلب ایا یتم سے اورار ارک وتعال کو فائعل پالاشط رانا ےءاسی لیکش
علام امام ال نت نے ریف مایا ہکرنسنیوں نے اکر چرافقہ ر تکوسلب ش کیا ا اس ارشھاومیش
صاف اشارو ے فی لفط قزرت بو لج ہیی وو با3 ار پوس رک ڑاعل
الایجاب ماثتت نیںء اور ای لیے اکھوں نے ب یکاہ دوٹوں ش رط تھے ملا زمت کے صادتی
"۳ . ہہکہنا کہ ید جوب اک کی طرف سے سے کہا لک ذات پہ
واجب ےگ مغالطراورص رع ننالف سے مکہ مہ دگوکی خداکوفائل بل یجاب مات ۓےکا مناٹی سےء
فلاسفہ کےطور پیل بار یکا ابییاب سےصادرہونااورخلافہھل ےعلق ق رر تکامسلوب ہوا
ضرورابت راوج پاش لےتلزم ہے۔اوران' فال و ساقرے 2 نی
نکنل تلق ہوئی ہے کانانی سے۔ ہم ائل سنت و جمااعت کے ند یک فی یر ہے ججیماکششی
595
علام امام ال سنت نےمما ت آ تد ہ میس تر فر می ہم یہاں ا نکلرا تیطدبا تک خی کر میں
کال سشت وجماع تکاغلا نہ و تل کے عقا نکد باطلہ سے ایا رشن بہوءاورو جو "شی اور
دجوب اعختزالی اورجو بسک یکا فرقی زم نشین ہو۔ ناش امام ال سنت ف ماتے ہی ں۲ افعال
ٹیس سے پجدوہ ہیں جوحکمت کے موافی ہیں جی ےکا فرکوعز اب د یناء ادرفرمال بردا رکون اب د یناء
اورپ خلاف کت ہیں :یی ےک را نکاس ءاورشی بھی ابٹی عدبذات می رکمکن ہوئی ہے خی کے
پیٹ نظرجمال ہوتی ے اورشی کاتعاق فررت کے لیے صا ہونا اس کے اکا ذائی بھی سے
اش ہہوتا ہے اورامکااج ذاٹی کے منافی اشنا وو حیلم ہرددچزجوابٹی حبذات می ںکمکن سے
ودای دکی متقمرور ہے۔ جب تم نے ہی جا نلیا اب ہہ مھ وکہ )تام محملنات جوحکمت کے موافحن
ہں پر لن نہ ہموں سب الد تی کے مقدور میں لپغراشہ بجر سے اور شہائس ہرس ی شی ما
یجاب مان افعال میں اراد ہکانمعک ای سے ہوتاے جوموافق حکمت و ورنہ سغا ہت کہ اس
ےک یم یعحال ے لاز مآ ت گی راو جوموافنی ححت 7م دوب بی وی کا یں سے
ا 0ا و و ا ا وا ا
سے تح ہوئی سےء پھر چنا بای تھاکی جانب انت لکور بک رتا ے اوزارادو ان سے لی ہوا
ےو با یا بای تا لی اک اش لکا مر وجودشی سآ نا اجب ہوتا رووا لوس تر
دوب 00 ا0ال ہے تی نے ہاگ چارقی عدذائت می مکنا سے۔ بہاں سے
ےہ کی کک ا ا ا ا و می سے
بھاے۔اورائس کول میں پا بر منافا ت یں کا مکان ذالی لھا اصلو تضافن ذردرت ہے او رج ز
وب میں ہونا پا تنپاركتلقی ارادۃ الس سے سی علا مکی ن رجات سے ماع ظا ہر ےکہ بیہاں
نجرس شہاییاب جیما کہ فلاسفہ مات ہیں ء اور ہراس ریش کا وجب جیی اک مت یی اور
راٹشی اناو رکتت ہیں بلکرووموجدوخمالق اشیااورفاعل بزرت داختیاروارادہ سے ء نہک فاعل
پا ضعرارءاورڑشٹھی علا مکی رمع سے ما مھ خوب روشن ےکن سفی تصرف نا فدرت ہیں
لہ ناڈ ارادوجھی ہیں _اس لیکش ی علام علا مہ جراعلوم سے :اشل ہیں ءارادہکی شان دو جاجوں
56
ےت ہے ار ہی :2ر
ج بت مکوپخیس ہوگئ کت نے بلام رن ال ہے اور دا ہونااس تر نی سے ای کے لیے سے جو
لوا ےم وش یں معلوم ہوگ اک ریگ نی سکیکوئی شی موجود ہاو رکوئی امرثابت ہو خواہ اس
ش کوموجو نہیں ا واسطہ نام دبی ہراس صصورت 0 ج بک وہ شی علت موجرہ پا شش سے
واجب ہوء اور رایجاب اگراراددوا تار کےکقن کے بعد ہون ٹل اختیاری ے ور اقطراریء
اورموچداگرصاحب ارادہ ہون دہ فائل بالاختیار سے و رت فائل بالا یجاب ہوگا-
یز کے پچ کر ماپان ہیں :اب اس وخ کامت یحو لکیا جن سے نتم اس جیے
متام یل قائل ہیں اورروشن ہواکہ ینہ وجوب اعترالی ےاورضدو جو بیأسفی ء بلدو جو بک فی
ےڈ ال 2ہراےءال جہے ای تنا کی کےاراددواخا رتےصادرہوتاےء
زج این جا نے ہیں یتال سے کان و رخ نول ےلگ سال
ہونے کےطور پر اور تر الما جاک مت لہ او داش سے ہی ںکراس پیل واججب سے یڑا لکا
ای تھا لی بر واجب ہوناءالل تی طا مو لکی قمام بافوں سے بت بلندرے۔“
(حاشہتا نج الشر یی محر اعد مت فی۵ ۲۱۵۔۱۵)
کا ۴
اصصحا بت بجوم الا بتراء:
بیتا اش ریی اع رسالرے شس مل عدیث ”أصحابی کالنجوم بأبھم اقتدیتم
افصسدیتسم“ کی اسنادیی حثیت فص لکلام ہے ھا ہکرام رضسوان اتا لی ہما نین کے
و ر رای کے ا کے نز دیک سن کے با تار سے شاب تکڑیں ء
وی رضوریشریف بی ای جطرت نے ایک مقام لھا ےکہ بیرروابیت اگ جح جن کے
نزد پک اب تی مان ا لکشلف کےنز د یک ضرورغابت ہے۔ا لی ضر کی اتقی رہنماکی سے
یراع لم ےکہاس روای تکوسرے نظ رانا زکرنا مناس بیس بضر در تح یک راس روابیت
کی اسنادی حثیت پش نکی جا ء اس برکوگ یفص لحقین نظ ر سے نیدی اس لیے تا نع
57
شرب علیہالرمے اس پکاممکیااوزق یت اداکردیا۔
بل میں امام قاضی عواض مکی رح اللدتالی نے شف یس اس رواب تکو بصیقء جز ھ لکیا
یجس پیاٹعھی نے اعرائ کرت ہو اس روای تکوم وضو قر ارد دباء اور سک یاصییل
ما ای ارام وی ےتیک رکا ای اودائ کی
اتاحم کا حوالہدیاء اس پرتاج الشرییہ نے دو موضسوییی تکی اھ یج ری ےمم جن ضضققین نے
اس ردابیت پ کا مکیاعسی نے ضحی فکہاصسی نے مک کہا نے لانقوم ہچ ہنی نے
موضو قرار نہ دیا.آپ نےنخعمیل ےکا مکرتے جو پک ٹکوااسں مت تک پاپھا کہ سندآ یہ
روا یتال دہ جلاف کی ء بی ٹٹی پالقول او رکش تیطر کی بنای درج تن کچ لق
ے۔اس پچ ٹ کاب شی تصہدہ ےجس می سپ نے این ازم کےاستند لا لکا گڑیکیاے۔
آخ میں ےکا ہو ںکا حوالہدیااودا نکی عبارت در فرہائی جن میس اس رواب کان٦ل
کیاگیاے نشین میں زیادو تر اعیات التب ہیںء اور اکٹ یل ا ںکوعد یش دم فوع کے طور پر
یغہتز مق لکیاکاے۔
1ے
حضرت اب را ڈیم علیرا الام کے والدتا ٭
بھی عر ل رسالہ سے جم کا یک تین ان ا ابرائیم عل اللام تارب ان
آزر“۔ بجی حخرت ابرا یم علیرالسلام کے والدۃتا رب ہیں ءآ زرکییں-
اس رسال کی زی فکا بی منظریر ےک امام جوا لی یکیعرپیلض تک یکتاب ا ےے کے
مطاع کے دوران تاج الشربیرنے جب لفظڈ آزر“ کنل دبھی تذاس میں پھ یوں در تھا
ہآ زرکوخرت ابر ڈیم علیہ السلا مکا با پ راد دیاے مورحان سے ہی ںکہححضرت اب رانیم علیہ
العلام کے ال رکا نام تار یا تار غ تھا ءاورآزر با پیل بلہ بی تھا۔ مرکود ہکا بکی نقین ڈ اکٹ
رشح ش اکر ن ےکی سے جخھوں نے اس پر حا شی لگایا او رآز رکوحضرت ابرا تیم علیہ السلا مکاضتی
پاپ ثراردیااودر ہا ہے ےنال رآ نے نے ور ےنیل ڑے۔
58
صضورتا ج الش یہر اس استد لا لکاست مس ںکیااورئس پ رای ک نصمل رسالت ریف رمادیا۔
اس رسالہیش اس ام رک یتین ےک حرت ابرا ڈیم علیہ السلام کے وال رگ رائ یکا نا مآ زر
یہ ہا نکانا تار ما تار خھاء ایک دوس ےن ےک ف رآ ےک ہآ زر جےیق را نک ریم نے
مش رک تقر اردیا ےححخرت ابرا ڈیم علیرالسلام کے واللد جھے پانڑیں؟ اورا سک یتین کا سبب ہہ سے
کہ خلا ۓ ابل سن تکی ایک بڑئی تعداوجشن میں نام نشین امام جلال الد بن سییڑی اورامام
ات رضا یما الیل تھا لی ہیں ا نکا م وف بد ےک تضورا ری صلی الڈعای ےلم شر نٹ میں
877 . .می تفآ وم علیر السا مم کنا مآ باء مو ہگ یکڑزرے
یں ءان می ای کٹ بھی مش ر یں ۔ا نظ ریہ پرائ ہی تےکر بی سے سوا لآ ہے جس میس
اتارک وتعالٹی نے ارشادف ایا:”واذقال ابراھیم لابیە آزر أتتخذ اصناما الھة “کہ
آزر یت پر س تکوابرائیم علبیرالسلا مکا با پکہاگیاہے۔ ال کا آسالنامل می ےک لفظ اب ' ہما
کے می بھی اتال ہوتا سے او رق رآ نشیف می بھی بیہاں اوردترمقامات ب رفظ اب ھا
کے مع میس استعال ہوا سے ان انس کر ور ی نشین کی ضرورت بی لآک یک ہآ ز را یا پ کیل ہما
ےت حرت ابرا ڈیم علیہ السلام کے با پکولنع تے اورا نکانا مکیاے؟
تضورجا رج الیش ریت علیہ اارضہ نے اس موضو برغم اشھایاء اورحوالوں کے انبا رلگادپے۔
بج ٹکوہہابیت بی جیدہاورغوشل اسلولی سے ہو ںآ کے بڑھا کہ پیل می چندرسوالا تل ہو جامیں
و مل دنو ڑل ہہوجا ت گا۔
قرآن یر سے خابت ےک حقرت ابرا یم علیرالعلام نے اپنے واللد کے لیے مقر تکی
دعا کی سے ۔ (ابرا ڈیم ۴۱)حضرت ابرا ڈیم علیہ السلام نے این پاپ کے لیے دعا ے مخفرت
ایک وعدہکی وجہ س ےکی جب ظاہ رہ وکیا کیہ دہ ال رکا سن ہے پے بہزراری کا اظہارگیا۔
(الت بر٣ ۱۱)حضرت ابرا ریم علیہ السلام نے اپٹی ذر بی تکو وادکی خیب رذ یی زرر مم آبادکیا۔
(ابراتٌم2٣)ابوال ىہ ےلہ
)١( رت ابرا ڈیم علیرالسلام نے اپنے باپ کے لی دھاۓے مخفرر تکم بک اگ ؟
59
2 اکب ا نکومعلوم ہ اک ودای اشن ے؟
(۳) معلوم س ےک ہآپ اھر تک کے مل آائے جہاں اپٹی ذر جم تکوبسا با مجر ایۓ
اورواللم بن کے لیے دا ۓ مففر کی ء و سوال بہ ےک ہکم بک کی طرف اججر تک ء او رکب
اپ اپ سے انار رر تک چا ا راودا با پک بلاکٹ کے
عراظہار را تکر کال ارایا سال بیے/آپا'ریسسا اضفضر لي
ولوالدي “یکس کے لی دعھاۓ مفظر تکررے ہیں؟ کیا شف کے پاارے میں دع سے
جس سے اظہار یراع کے یں ؟ با 90 7 00 وت را
کر ؛احالمہ و وکوئی دوس رہ ہیں تل بجر تک نے کے بک میک ا نۓے
مقر کی ہے دوااس کے علادہ ہیں جن سے بٹرار یکا اما رکیا ہے اوررشس کے لیے مخفر کی
دعا گی سے دہ نیقی پاپ ہیں۔ نکد دہ مجن سے بٹرارگ یکا اظہا رکیا۔اورآپ نے روابات سے
طاب کیاکی نخرت ابرا ٹیم علیہالسلام ک ےآ گ می ڈانے جانے کے واقعہ کے دورائن بی بای
مموت ہوکئی اس ل ےکہ جب حفرت ابرڈیم علیہ السلا مک وگ می ڈا لن ےکی تیارکی ہورج یھی اور
ککڑیاں مم کر سے تےآگ تیارہور یھی نو ححفرت ابرا یم علیہ السلام نے ”سرن الم
اویل 'ڑءااوراً گک بین ٹڈ ال د ہے ۓئےئ نو اد تھالی نےآ کو ری ہد ےم اعم دیا۔
(یا نارٌ کوني برداً وسلاماً علی ابراھیم)
چنا نگ ٹھنری ہوکئی اس پر ہا آزر ن ےکہاک ہگ میری وج سےٹٹری ہوکی :و الل
تالی نے ا سک ایک چگاریی ا 2ن انا سے وو پھ لکر تاہ بہوکیا۔ و جب
ھوں نے پا کا شرک پرخاضد یکھاپذ اہ رلوگ یاکیردد الیل اشن ےء اس کے بحدرمخفر کی دعا
نکیا ءاس سےترتیب واقعات ظاہ رہوث یکہ پیل ہآگ میں ڈا لے والا واقعہ ہوا چھ رای دوران ہا
یاموت ہہوثی ء اور ہہ دونوں پا یس ملک شام رکم کی طرف نجرت سے پییلے ہ میس ء اور
آزر کے لے استغفارا سکی زندگی می سکرتے تےء جب ترک برصوت ہوٹی و اس سے بیرار یکا
ان ہارکرنے گے۔ اس سےمعلوم ہو اک ہر مہمیں جومخفر تکی ب0 وواپٹنے جنقی پاپ کے
60
ےکی نرک چا کے لیے ءکیو ںکہ ا سکاانقال بہت پل ہو چک تھا اور پیلہ ب یترب یکر کے تھے۔
اس کے بحدراس مونف لف جبتوں سے اعتراشمات جووارو کے نئان کے تی جابات رر
- رز نک کی ری کل ےر 2 تقلیک فی الساجدین“ اورعر ٍث
اک:”لم ازل انققل من اصلاب الطاھرین الی أرحام الطاھرات''ےا تد لال >
اتراضا تکوردکر کے امت لا للو وی بنادیا ے-
او ا
النردقئی شرح تصیدرةالردة
تصیدہ بردوشریف دا کے سب سےتمش ہو رق اتد میں سے ایک ےج سکوعلام شرف
رین بیصیربی نٹ مک کےحضورا رسکی اود تی علیہ وی مکی باگاہ شش اپتی عاجت روا یکی
راد کے لیے رکھا ہواتماء ایک بار جب امام وصی رک یکوخواب بی زیارت ہوٹی فو فھوں نے اورا
تید ہس کارا رسکی ایل علیہ مکی بارگا :بش جن لک کے استفا کیا جن سکوتضور اق یسل الد
علی یلم نے قو لکیااوراپنا دس تکرم امام بوصی رکیپ رکھیراادراننیں فان سے شف ہوگئی ۔
تضورجارج الش رجہ سے اس قصیر ےکی ع۶ بی شر نک یگز ادن لک یکین حضرت نے ام سکی
شرع با نکرکی شرو کی سفرییس تمس جب جب مو بنا آ پگ بی یش شر بیا نکر تے
اورا ےر ارک رگاجا جاءاورال سکا جو ”الفر دی شر الہ رد کے نام سےمنظ رعام ب ہآ یا ہیں
انس کےخلف تصمو ںکی ربکا ڈنک سن ےکا موٹع ملا بحضرت پیل الا دکی وی ی تقر حمکرتے ہیں
صبضرورتنواور بلاففت کے اختبار سے شع رکی وضاح تکمرتے ہیں تچلرامام بوصی ہی ن ےکوی
عھ ٹن مکردیا ہے فو ا کی شر مس شی وین خر ماتے . بللہ ج متقامات بی لف دینش
گمرتے ہو ےچ بی ضرب الا ہنا لجھی ذکرفرماتے ہیں۔ چنا مج یمحر :ما لعینیک ان قلت
اکففا ہھتاء اس میں اکففا یس تک ادغام ہے اض رورت شع رکی بیو لکرتے ہو نے
تر وف مات ہی ںکہ یھ اس مو برای کک رت بادآ ے: خیسر الضاس من کف
فگػہ وفک کفہ وشر الناس من کف کفہ وفک فکہ ۔یڑقی “تین انسالن دہ سے جو
61
مھ بندر کے اور ہاتوکھول دے اور بت بن ازمانع دہ سے جو باتھ پا ندت نے اورز با گھول دے_
اس شرع می چا ماف تحقیقات ہیں ء ضا تفم بی کے درمیان فرق لخظ لد یک تضین:
عیب یل کےست یک یبن زط ق یدک یتین بے فلا اح کی تش رح کم یلو اکیشقین مافط اوہ
حی ثکااستعال وخیبر۔ نو ڑکمات رات کے صنائعج و بدا عکوشھی حجل لہ وا حکیاکیاےء ملا
یبا متصن :شی مقلوب بل اسر ای تا رت کت ہد نے بت سمارے
ابی واقحیا بھی پیل کے ہیں تا حضرت حلار کا واتعہءسلطا نہھوداورشخ اب وشن خرقالی ک
وع کس کی کا د نٹ ان اہ اسحاب مل کلاناقہ ؛ را راہب ان اناو :ای
رز رج کےایمان لان ےکی یل قصہ زا رم حضرت ہودعلی السلام اورقوم ھا دکا واقعہء عا ال کا
واقعہ :مخ راج شر کا واقعہ اور بہت پگ ھی وک حیقی ا ہا بھی جاہاد یکین ما وطا اب
کے اپمان وکف کی بٹ:تضوریلی او علیہ ےلم کے حا ضرونا ظ رہون ےکی بت کلام نی او کلام
لف یکی بجثء وحصرت تق رآ نکیا بجتہ رویت بای تھا کی بجٹ۔وعدت ت رآ کی گیا جٹ بڑکی
بھی یٹ سے جن سکوحضرت نے امام ام رضا کے رسالہ ”انوارالمنان ثی تو حید اق رن “کی
لے و کے
اار۲
تام ال مین بتقیدکا جواب
الرد السدید للعنود الحدید
ام ری نو لم ا کالرفو حا مکیلر نے علماۓ دید یندکوکفر سے بچانے کے لیے حسام اھ ین
رننزوظر تل یمان ونفراورسخبر سےکنوانع سے ا یکن رم رتیاری اورا حنبیٹ پر عا مگردیاء جس
کومفبیعما لک کےآزادماحول میں نماصی متبو لیت حاصل ہوئی-
اس کر کا خلاصہ یہ ےکا لی ححضرت نے جوداو بن کے ما رعلا رکف رکا فی صادرکیا سے وہ
درس ت کیل ءعاما ۓ دلو بن نے جو بات ا اکمابیں می سلکددی ےوہیا نقخاط ے پالیر تو ہے
2
جم اس رکف رکا حم د ینا غلطد ہے۔ پچ رای با تکوامام مقاضی عیا کی شفااور دج رکب کے حوالوں
سے اوح لکرتے جو ےلاک ہبقاحم نا فو ہی نے عصرا حتضور٥لی او علیہ وع مک یتم نہو تکااوکار
ھی ںکیاے بل اح انونھھ کی اوررشیداح کنوی نے ج کن ب بای تینک نکیا ا6 مطلب
سک ہاھوں نے اللہ تھا یکیجھوٹاککی دای طرح ان شی وا نومی نے حضو لی ادڈرعا یسل کیم
خی بکوجو جانوروں اور پاگوں کلم سےتشیبہردے دی سے اس سے اگمہ چہ بے اد لی او رگنتا یکا
مہو ڑکا ےکا نگمتا ھی اس وق تت کگتتا یجس ہو کی ج بت کک ا لک نبیت نہ ہو۔
اس طر ںی فاسدنے جات اور بے جا او یلا تک کے ات نمو نکوطول دیا سے اورق رآن
وحدیث کےنصصو سکوبی کر کے عاما ۓ دیو بند کےکشرکو ہلک نان ےک یکو کی سے سشھروع سےآ خر
ککئی اپ مکنا وں کے جوا ل بھی د بے جن میں اتی الد ین جکی ء اما مخز ال یکی الا قاد الا قد
او رامخ ایی شفا یرہ مان جب ا ڈو الو ا اک کی جوا 0ایا ات
پرافنۓ مقصدکی عبار تکوسیاق وسباقی ےکا کر نےل گیا ہے اور جوعارت ان فا سدتاو با تکو
7 0 .077)] 7
کتمابوں کے جوا بات اور بنیانیبرات کے اظقتبار سے ریگ ری عددرجفر 2 ٹیس بنا رر ی نی
اورام 2219 می سک یع وا ماس گی وج سے ومیش میں موا ہہور سے تھے ناما تئے ای سنت سے ال
کے رد کا تاضا یں ا ےگوڈی اہ کی رت یف یلست ند دکھاٹی د بنا تھا ا لاخ راس
کے جواب کے لی تا نج الش ربص علیہ ال رحمکوپی میدران می ںآ نا ڑا۔اورآپ نے بیکامم اع مات الب
سےحوائوں سے ساس ا
آپ نے اولا اس کے استندلال پرسوالات تائم ہیے صن کے ذر لیجہاس کے استند لا لیکو تنا ضا تکا
موقر اردیاء لا ئۓ دای نرک یکفری عبا نول مس سے ایک ایک پش یلا مکرتے ہو ئے وا
کیاکہ بہت لکف می ص رج مین ہیں اورص رح مین مس خبی تکی ہرز ض ور تنئیس ہو کی ۔ بل ہآپ
نے قاضی ع وا کی شفا حص رجح عبا رت اق لک کے ماب تکیاکرشس چجل سے رسول ا٥ی بل علیہ
وع مکی ان می صرح نو بین ہولی بہواس میں شبیت وقص دک اکوکی اختبار نہ ہوگا ۔ بیو ںک نیت وقص کا
63
ابا رکنائی او نل بملوں میس ہوتا سے نہک رص او نین مب _
ھ0ھ0-+ھ٭8
اردوھ جھتگاری
ضورجا رج الیش علیہ الرحیۃ والرضوا نتصذیف کے علاد ہت جہڈگا ریاچھی فرماتے تھے ہآ پکی
ت جم لاد اس با تک غماز ےک ہآپ برمصنف بنے کےحو کا لیس تھاء اورنہتحداونصامیف
جش اضاف کا ھزاع ء ورہاس دو راخ ری اج نکو پڑ ولک کر ذ راظ مکپلڑ ن ےکا سی ہآ سکیا انیں مصیف
بن ےکا شوق سان گلا ےء اور بیشوق شب وروزت ث کرت جا نا سے مر یلم دوس ت جحفرات ا لیے
بھی ہوتۓے ہس ینف وت یف ضرورتأی وقتیشموں ہولی ے جب ئن میں 0
ضرورت اض اکھرے اورأس م وضو برکوئی مت راور جامح تعنیف موجودنہ ہوم تضمو جیا رات علیہ
ارح جخھوں نے ہاں عم نل اپ باقیات میں تھنخات نریچھوڑ یں سی نے اا کی وجہ لوٹچی
قذ پ نے اط حفر تکی تیذا تکا حوالہد ید ہا جوضرورت کے تام ممواوکوا سن ط ربق سےفرابھم
کمرکی ہیں یی صورت عال ہیں تارج الش رلیہکی سیرت میں د بکھت وق ےہ چنا غجیرآپ نے خود
نی فکی بجاۓ امام اتررضا کی ناما تکو عا مک نے کے لیے اس با کون بی د یکم ا کی
یع کی کے کک کی یں ا کس ےا اع نُس
کردا جاۓ اور ج کتما ہیں عم پی بیس میں اردودال طنشہ کے ل"'"' 0 چو کہ یا جاے۔
چنا نی آپ نے ایی حضرت کے متعدداردورائ لکوع لی یف لکیااوردہ رسا لےعرب سے شائح
ہوۓ یجن میں شمول الاساام ااصول ای المرامء حاجز امھ رین الواقی شن شع ال تین ء الباد
الاف ث عم اضعاف وغیبرہ بہت ش پور ومتبول ہو ۓے_
من عر یکتابو ںکواردوز پان ج6 سے ان یں دوکا وک رآ تاڑے: رتو لمرمنجرمح
ممترد اممستد _ اور دوسارسمالہ” ار لال ان یمن برسبقۃ اانئی بظاہ رمچھاجا نا ےک کسی عرکی
کا بکااردوتر جک رن زیادد شک لکیہ یتقیقق تگجھیا ےک جو درس ذظائی ند رےلوجہ سے پڑھ
نکی ع یکا بکااردوتر جمہ یقاس کے لیے پپھ مکل امرنییس یکن تر جہٹگاریی اع اداک را
64
بہت حدتک الس حر ےک و ہکا ب ہشن او رجش موضوع بر سے اس تنا ظور
ہے۔ ایک ساد دی با تکودوسری ز پان می مت لکنا آسان ہوسکنا ےمان سیف تق لک رج مکل
تی نکام ہے اورااس کے لیے انس پر دستسس درکار ہے۔ جمارے شی نظ رتو رج نج الشر لچ کا مور
لمشر اراھمت رلمست رک اردور جم ے۔ یکنا عم کلام پہ جائمع تی نکتتاب ہے کیو ںکہ یہ
تفل بین اورتاخر ب نکی ابحاث شتقمل ہے اوراس میں مکلا مکی دہتحقیقات علیہ در عکاگئی ہیں
ہو تق نکی ایا کا جڑ ہیں ۔ اي کات کی جتوں ےٹیل تی نام ےہ ایک نے بک ہمتاخ بین
ملین اپٹی ابحات میں فلسذزمن اور ویک تی علو کو یرامہ پٹ بناتے ہیس او ری نکوع روج مک
بات ہیں۔ میم گر ان اصطلاحات واحاث سے انی طرح واقف نہ ہو تر ج کر نے میں
زی ںسکر ےگا ہا ےے منقاما تآ میں کےکہ پوت جمہ نہ بن پڑ ےگا این چم نے جاہچا ناخ
الشر یکا تر جرد یکھا اورعسوں ہوا مت جمکوان احاث واصطاا حات پر پوراکنٹرول سے جب جی تو
جمہ یں غ کا ماع زندہ وتابندومسوں ہوتا ے_ نز جصہ میں موضوع کی می مشکات تو وور
نیس ہو جا تیںءکچی وج ےکینشکل ابححات ایک اردوخواں یا ایک موتقدکی کے لیے اموارع کے تام
ےکم زہہو کی ء بھی الیےلوگکوں کے لے بب تآسانی ہوئی ے جوعقا نر سے شخف رھت ہیں
من ع ری پڑ من او رن میں وقت سو ںکرتے ہیںء بل عر بی داں حضرات کے ل بھی بہت
سمارے ایی ےنتا مات یسا ود جائی لکن چا رضح عنا وا شا زا کیا ین کے ورک نا مج
ےکیو ںکیتا امش رلیہکا بت جم نخائزر داشارا تک یئ نکرتاجاجا ے۔
سس
مم
زین کاب مرش گرا بی تضورارج الشر یت تلق مادداشتو لکا ای ک جو
سے۔ ای کے مضائین شکتتردل اورش کل کے وہ اتماسمات ہیں ہج وگ رع رحب طور
ریش راس بٹنفل ہو ۓ .تارج الش رجہ کے حالمات وکما مات اور ا افادات لظور
تھرکن حشال 2 2 زیں۔ ال کا بکاا چم خر بین حصہ ناو اد ای حظرت اور
زانوادۃ صدرالشریتہ کے ر بط بلق اور ال ل نین یں جاج الشریعہ کےکردار بی شقتل
جوہھوگی طور پر مار یاددا شت ری ہے نس اھر بلاج ہہ ئۓے کم 2 ھ2
عافنظے کےسا تح انصا فکر ےک یکومت کی ہے :تاب مکوٹی ہما یی اصلا کر نایا سےتو
ھی رش زار یاےگا۔
یمان ا صضفیٰ قادری فرلہ
۳ ائمست ۸۹ء ۲ء
7
- ار 2 ا ۸. ١_ پر یق